افغانستان:’ لائحہ عمل بدلنا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو مغربی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کو مستحکم ریاست بنانے کی بین الاقوامی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ امریکی اٹلانٹک کونسل نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کو اس ملک میں کامیابی نہیں مل رہی ہے جبکہ امدادی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ افغانستان کو انسانی المیے کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹیں لندن میں ہونے والی بین الاقوامی امداد کے متعلق ہونے والی کانفرنس کے دو سال بعد آئی ہیں۔ اس کانفرنس میں افغانستان کو مستحکم کرنے کے نقشۂ راہ پر اتفاق کیا گیا تھا۔ آکسفیم کے مطابق افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کے لیے منصوبہ بندی میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس تنظیم نے ایک کھلے خط میں انسانی المیے کے حوالے سے پیشین گوئی کی ہے۔ تنظیم نے مزید کہا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے لیے مختص لاکھوں ڈالر ضائع کیے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی کوششوں میں ربط اور ہم آہنگی نہیں ہے۔ آکسفیم کے پالیسی ایڈوائزر ماٹ والڈمین کا کہنا ہے کہ ’بڑھتے ہوئے تشدد کی کئی وجوہات ہیں اور جنگی سردار اور منشیات کے سمگلرز کا بہت اہم کردار ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جب لوگ مایوس کن صورتحال میں ہوتے ہیں تو انہیں بھرتی کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے‘۔ دو امریکن تنظیموں کی رپورٹ نے بھی متنبہ کیا ہے کہ افغانستان ایک ناکام ریاست بن رہی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے مطابق نیٹو افغانستان میں جیت نہیں رہی اور ’لائحہ عمل میں فوری تبدیلیوں کی ضرورت ہے ورنہ افغانستان ایک ناکام ریاست بن سکتی ہے‘۔ امریکن افغانستان سٹڈی گروپ کی رپورٹ بھی اسی قسم کے حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے ’تشدد، کمزور پڑتا ہوا بین الاقوامی عزم، کم فوجی قوت اور ناکافی اقتصادی امداد افغانستان کی مشکلات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں‘۔ دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر نے صدر بش کو آگاہ کیا ہے کہ کینیڈا کی فوجیں افغانستان میں نہیں رہیں گی جب تک کہ نیٹو ایک ہزار مزید فوجی قندھار نہیں بھیجتی۔ افغانستان میں نیٹو کی کمانڈ میں سینتیس ہزار فوجی تعینات ہیں جبکہ قندھار میں دو ہزار پانچ سو کینیڈا کے فوجی موجود ہیں۔ سن دو ہزار دو سے کینیڈا کی فوج افغانستان میں تعینات ہے۔ اس عرصے میں بہتر کینیڈا کے فوجی ایک سفارتکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ طالبان افغانستان میں پچھلے دو سالوں میں اپنی کارروائیوں میں تیزی لائے ہیں۔ افغانستان کے جنوبی حصوں میں سن دو ہزار ایک کے بعد بدترین تشدد دیکھنے میں آیا ہے۔ | اسی بارے میں ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس افغانستان: سردی سے200 ہلاک18 January, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس ہلمند:خودکش حملہ، نائب گورنر ہلاک31 January, 2008 | آس پاس افغان سینیٹرز سزائے موت کے حامی نہیں31 January, 2008 | آس پاس کابل میں خودکش حملہ31 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||