BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 01:16 GMT 06:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قندھارجیل پر حملہ، 340 طالبان فرار
قندھار جیل کا صدر دروازہ
قندھار جیل کا صدر دروازہ جسے دھماکے سے اڑا دیا گیا
افغانستان کے صوبہ قندھار کی ایک جیل سے تین سو سے زائد طالبان فرار ہو گئے ہیں۔

ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جیل کے بڑے دروازے کو بم سے اڑا دیا گیا اور وہاں سے تین سو چالیس طالبان فرار ہو گئے۔ اسی دوران کار بم اور راکٹ حملے میں پندرہ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ ولی کرزئی نے بتایا ہے کہ مجموئی طور پر ایک ہزار کے قریب قیدی جیل سے فرار ہوئے ہیں۔

قندھار شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ تیس موٹر سائیکل سوار جنگجوؤں اور دو خودکش بمباروں نے جیل پر حملہ کیا اور چار سو کے قریب طالبان قیدیوں کو رہا کروا لیا۔

پولیس اور فوج گلیوں میں گشت کر رہی ہے اور رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

جیل سپرنٹینڈنٹ عبد القادر نے کہا کہ ایسے بھی قیدی ہیں جو فرار نہیں ہوئے اور انہوں نے جیل میں رہنے کو ترجیح دی۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تین کلو میٹر کے دائرے میں گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات کو توڑے جانے کا ایک اہم واقعہ ہے۔

قندھار صدر حامد کرزئی اور نیٹو افواج کے خلاف طالبان کی بغاوت کا ایک اہم مرکز ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد