قندھارجیل پر حملہ، 340 طالبان فرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ قندھار کی ایک جیل سے تین سو سے زائد طالبان فرار ہو گئے ہیں۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جیل کے بڑے دروازے کو بم سے اڑا دیا گیا اور وہاں سے تین سو چالیس طالبان فرار ہو گئے۔ اسی دوران کار بم اور راکٹ حملے میں پندرہ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ ولی کرزئی نے بتایا ہے کہ مجموئی طور پر ایک ہزار کے قریب قیدی جیل سے فرار ہوئے ہیں۔ قندھار شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ تیس موٹر سائیکل سوار جنگجوؤں اور دو خودکش بمباروں نے جیل پر حملہ کیا اور چار سو کے قریب طالبان قیدیوں کو رہا کروا لیا۔ پولیس اور فوج گلیوں میں گشت کر رہی ہے اور رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ جیل سپرنٹینڈنٹ عبد القادر نے کہا کہ ایسے بھی قیدی ہیں جو فرار نہیں ہوئے اور انہوں نے جیل میں رہنے کو ترجیح دی۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تین کلو میٹر کے دائرے میں گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات کو توڑے جانے کا ایک اہم واقعہ ہے۔ قندھار صدر حامد کرزئی اور نیٹو افواج کے خلاف طالبان کی بغاوت کا ایک اہم مرکز ہے۔ | اسی بارے میں جلال آباد: خودکش حملہ، فوجی ہلاک31 May, 2008 | آس پاس نیٹو کو افغانستان میں وسائل کی کمی03 June, 2008 | آس پاس خودکش حملہ، چار افغان فوجی ہلاک24 May, 2008 | آس پاس طالبان کی دھمکی، درجنوں سکول بند23 May, 2008 | آس پاس افغانستان:خود کش حملہ، پندرہ ہلاک 29 April, 2008 | آس پاس افغانستان: کینیڈیئن فوج پر حملہ12 March, 2008 | آس پاس قندھار میں دوسرا دھماکہ، 35 ہلاک18 February, 2008 | آس پاس قندھار دھماکہ: کم از کم 80 ہلاک17 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||