قندھار میں دوسرا دھماکہ، 35 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں ایک بم دھماکے میں کم از کم پینتیس افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے ہيں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں تین کا تعلق نیٹو فوج سے ہے۔ پیر کو ہونے والا یہ دھماکہ پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ قندھار کے سپن بولدک شہر میں پیش آیا ہے۔ بظاہر دھماکے کا ہدف نیٹو افواج تھی۔ مقامی حکام نے اس حملے کے لیے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن طالبان نے اپنی شمولیت سے انکار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کو قندھار شہر میں ہونے والےایک بم دھماکے میں سو زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جنہيں پیر کی صبح سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ سن دو ہزار ایک کے بعد افغانستان میں ہونے والا یہ سب سے خوفناک دھماکہ تھا۔ نیٹو افواج افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔ اس برس افغانستان میں کم ازکم پندرہ غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں زیادہ ترامریکی فوجی تھے۔اس وقت افغانستان میں چالیس ہزار نیٹو افواج تعینات ہے۔ علاقے میں حال ہی میں ہونے والے کئی خود کش اور دیگر بم حملوں میں طالبان باغیوں کا ہاتھ رہا ہے۔گزشتہ ہفتے قندھار کے گورنر ایک بم حملے میں بال بال بچے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2001 میں اقتدار سے طالبان کی بے دخلی کے بعد سے سنہ 2007 اب تک کا سب سے پر تشدد سال رہا ہے۔ | اسی بارے میں قندھار: دو بم دھماکے، چھ ہلاک17 May, 2007 | آس پاس خودکش حملے میں پندرہ ہلاک18 August, 2007 | آس پاس قندھار کا مُعجزاتی قبرستان18 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||