قندھار کا مُعجزاتی قبرستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قندھار کے عرب قبرستان میں دفن امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی جنگ کا نشانہ بننے والوں کو بہت سے لوگ شہید مانتے ہیں، اور یہ یقین کیا جاتا ہے کہ ان کی قبروں میں مُعجزاتی طاقت پائی جاتی ہے۔ ہر روز سینکڑوں بیمار لوگ اُن ستر عربوں اور دیگر غیر ملکی جہادیوں اور ان کے خاندانوں کی قبروں پر آتے ہیں جو دو ہزار ایک کے آخر میں افغانستان کے جنوبی شہر پر ہونے والی امریکی بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی تدفین کے فوراّ بعد ان کی قبروں پر زیارت کرنے والے عقیدت مندوں کا تانتا بندھ گیا تھا۔ انہیں مُعجزہ کرنے والے، شفا کرنے والے اور خدا کے سامنے دوسروں کی سفارش کرنے والوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ لوگ قندھار کے قبرستان کی زیارت کرتے ہیں ،خاموشی سے دعا کرتے ہیں اور اچھے کی امید کرتے ہیں۔گرمیوں کے موسم میں دور دراز کے علاقوں سے آنے والے لوگ یہاں کھلے آسمان کے نیچے رات گزارتے ہیں چھ سال بعد جب امریکی دستوں نے طالبان کو بے دخل کردیا ہے ، غیر ملکی ’مہمانوں‘ کے لیے پرجوش عقیدت ابھی بھی زندہ ہے۔ پچاس سالہ سنگینہ نامی خاتون جو یہاں نزدیک ہی رہتی ہیں اور ان قبروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ان عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو بیمار ہیں اور ان مردوں سے فضل طلب کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس امید پر آتے ہیں کہ ان کے معاشی اور معاشرتی مسائل ختم ہو جائیں گے۔
گزشتہ چند سالوں سے سنگینہ ہر روز قبرستان آتی ہیں۔ ’یہ لوگ شہید ہیں اور یہ میرا فرض ہے کہ میں ان کا خیال رکھوں۔‘ ان مردوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ لاعلاج کو شفا دینا لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ غیر ملکی معصوم لوگ تھے جنہوں نے اسلام کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ لوگوں کے لیے یہ قبریں متبرک ہیں اور انہیں چھونے سے بیمار کو شفا ملتی ہے۔ اس ردِعمل کو دیکھتے ہوئے مقامی حکام نے وہاں پولیس بھیجی تا کہ لوگوں کو وہاں آنے سے روکا جاسکے۔ مگر قبرستان کی شہرت افغانستان کے دور دراز علاقوں حتْی کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ صمد نامی ایک نوجوان عقیدت مند کا کہنا ہے کہ ’لوگ یہاں آکر صحت یاب ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قبرستان آتے ہیں۔‘ بہت سے لوگ اُن معجزات کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس قبرستان میں رونما ہوئے ہیں۔ لاتعداد بیمار جن کے صحت یاب ہونے کی امید تک ختم ہو چکی تھی، اپنے پہلے ہی چکر میں مُعجزاتی طور پر شفا یاب ہوئے۔ شفا حاصل کرنے کا بہت آسان سا طریقہ ہے۔ ہر حاجت مند کئی چھوٹے پیالوں میں رکھا ہوا نمک ایک چٹکی بھر اٹھاتا ہے اور اسے کھا لیتا ہے۔یہ ماننا ہے کہ اس نمک کا اُن مردوں کے ساتھ خاص تعلق ہے ، اور یہ کسی بھی بیماری کو دور کر دیتا ہے۔ مُردوں کا احترام شہر کے کنارے پر واقع اس قبرستان میں اُن عرب جہادیوں کی قبریں ہیں جنہوں نے انیس سو نوے میں طالبان کو اقتدار میں لانے میں ان کی مدد کی تھی۔ با آسانی نظر آنے والی اور نہایت صفائی سے بنائی گئی ان قبروں کو سفید پتھر کے ساتھ ڈھکا گیا ہے اور بانس کے ایک سرے پر سبز جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں۔ ایک بڑی قبر میں تقریباّ بیس لاشوں کو اکٹھا دفن کیا گیا ہے۔ ایک شہری کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی صورتحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان سب کی الگ الگ قبریں بنائی جائیں اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض تھا کہ ہم ان کو احترام کے ساتھ دفن کریں۔ گُل خان نامی ایک یونیورسٹی گریجویٹ کا کہنا ہے کہ اس قبرستان کی شہرت اس وجہ سے بھی کچھ زیادہ ہے کہ لوگ بہت غریب ہیں اور ان کے پاس صحت کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں بہت زیادہ بیروزگاری اور تعلیم انتہائی کم ہو، وہاں یہ بات زیادہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ اس قسم کے تبرکات بہت سے بیمار اور ضرورت مند لوگوں کی واحد امید ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: امریکی حملے میں دس ہلاک24.03.2002 | صفحۂ اول افغانستان: ’طالبان کمیں گاہ تباہ‘10.05.2003 | صفحۂ اول مزارشریف: مسلح جھڑپ17.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||