طالبان کی دھمکی، درجنوں سکول بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان حملوں کی دھمکیوں کے بعد افغانستان کے جنوبی صوبے غزنی میں پچاس سے زائد سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے رکن حبیب الرحمان نے بتایا کہ غزنی صوبے کے انیس میں سے پانچ اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ اور طلباء حاصری نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے لگ بھگ دس ہزار طالب علم متاثر ہوئے ہیں۔ صوبہ غزنی میں محکمۂ تعلیم کے اہلکاروں نے بتایا کہ بند ہونے والے سکولوں کی تعداد سولہ ہے۔ غزنی میں ایک طالبعلم نجیب اللہ نے کہا کہ اس تعلیمی سال کے آغاز سے ہی ہمارے سکول بند ہوگئے ہیں اور اساتذہ کو حکومت کے مخالفین کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ صوبے غزنی کے بیشتر علاقے میں طالبان کا کنٹرول ہے اور اس سے پہلے بھی طالبان نے سکولوں پر حملے کیے ہیں اور اساتذہ کو اغواء کیا ہے۔ سن 2001 میں طالبان کے زوال کے بعد سے تعلیم کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ اس سال کے آغاز میں لگ بھگ سات ملین بچوں نے سکولوں میں داخلہ لیا ہے۔ یہ تعداد طالبان کے زمانے میں ایک ملین سے بھی کم تھی کیونکہ طالبان نے لڑکیوں کے داخلے اور خواتین اساتذے پر پابندی عائد کردی تھی۔ حالیہ برسوں میں طالبان نے کئی سکولوں کو آگ لگادی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں سکول بند ہوئے ہیں۔ جبکہ متعدد اساتذہ اور طالبعلم ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ چند ماہ قبل افغان صدر حامد کرزئی نے بتایا کہ ملک میں طالبان مزاحمت کی وجہ سے لگ بھگ تین لاکھ بچے سکول نہیں جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر12 September, 2006 | آس پاس افغانستان: مدارس کی اصلاح 12 January, 2008 | آس پاس طالبان کا سرکاری دفاتر پر قبضہ06 April, 2007 | آس پاس طالبان کا کرزئی سے مذاکرات سے انکار30 September, 2007 | آس پاس طالبان کا خاتمہ کر دیں گے: بش، کرزئی07 August, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں08 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||