طالبان کا خاتمہ کر دیں گے: بش، کرزئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش اور صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو ختم کر دیا جائے گا۔امریکہ میں دو روزہ مذاکرات کے بعد صدر کرزئی نے کہا کہ طالبان شکست خوردہ طاقت ہے جو ان کی حکومت کے لیے اب خطرہ نہیں۔ امریکہ کے صدر جارج بش نے افغان صدر سے کہا ہے کہ انہیں فخر ہے حامد کرزئی ان کے اتحادی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ افغانستان میں اغوا کیے جانے والے کوریائی باشندوں کے معاملے میں طالبان سے سودے بازی نہیں کریں گے۔ طالبان اغوا کیے جانے والے تئیس میں سے دو کوریائی ہلاک کر چکے ہیں۔ وہ کوریائی باشندوں کے بدلے اپنے کچھ قیدی رہا کروانا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں پچاس لاکھ بچے، جن میں ایک تہائی لڑکیاں ہیں، سکول جا رہے ہیں اور ہر ماہ تین لاکھ چالیس ہزار افغان صحت کے شعبے میں سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں بہتری کے نتیجے میں افغانستان میں پانچ سے کم عمر کے پچاسی ہزار بچے آج زندہ ہیں۔ صدر بش نے حامد کرزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ صاحب صدر! بہتری کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘
افغان صدر کا کہنا تھا کہ ’ صدر بش دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغان عوام کو اپنا اتحادی اور دوست سمجھتے ہیں اور انہیں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کا اتنا ہی احساس ہے جتنا مجھے ہے۔‘ ’موت کے تاجر‘ افغان رہنماء نے کہا کہ ’جس برائی کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں اس کے بارے میں دیگر دنیا کو یہ واضح ہونا چاہیئے کہ ہم ان پتھر دل لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن کے دل میں چھوٹے بچوں کے لیے بھی رحم نہیں ہے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اتحادی فوجوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موسم بہار میں طالبان کی طرف سے بڑے حملوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ’ہاں موسم بہار کا بڑا شروع ہو چکا ہے لیکن (یہ وہ حملہ ہے جو) طالبان کی بجائے نیٹو افواج کر رہی ہیں اور اس میں افغان فوجیوں کا بھی اتنا ہی کردار ہے۔‘ صدر بش نے کہا:’ ہم نے پہلے حملہ اس لیے کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم شدت پسندوں کو اس نوزائدہ جمہوریت کو خراب کرنے کا کوئی موقع نہ دیں۔‘ طالبان کی نئی دھمکی طالبان کی جانب سے کوریا کے امدادی کارکنوں کو مار دینے کی یہ نئی دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب اغوا کیے گئے کوریائی باشندوں کی رہائی کے لیے کوریا کے سفارتکاروں اور طالبان کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ابھی تک اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ یہ ملاقات کس مقام پر ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی تردید اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پیر کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں محکمہ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت کا اپنے مغوی شہریوں کے لیے حکومتِ پاکستان سے رابطہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی غلط دروازے پر دستک دے ۔ جب ترجمان کی توجہ افغانستان کے صوبہ غزنی کے گورنر کے بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کوریائی باشندوں کے اغوا میں پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے تو تسنیم اسلم نے اس بیان کو ٌمضحکہ خیز ٌ قرار دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||