موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے ذرائع کے مطابق ملک کے جنوبی حصے میں واقع اہم شہر موسیٰ قلعہ کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی جا رہی ہے۔ نیٹو حکام کے مطابق افغان اور برطانوی برّی افواج نے موسیٰ قلعہ کے قرب و جوار میں طالبان کے خلاف بھاری گولہ باری کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امریکی فوجیوں کی آمد کے بعد بڑا حملہ کیا جائے گا۔ ادھر طالبان کا کہنا ہے کہ صوبہ ہلمند میں واقع شہر موسیٰ قلعہ کا دفاع ان کے دو ہزار سپاہی کر رہے ہیں۔ طالبان نے اس سال فروری میں موسیٰ قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ پورے افغانستان میں موسیٰ قلعہ ہی ایک ایسا قابل ذکر شہر ہے جس پر طالبان کا کنٹرول ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کے مطابق طالبان کے قبضے کے بعد سے موسیٰ قلعہ افغانستان میں منشیات کے کاروبار کا گڑھ بن گیا ہے۔ طالبان نے ہلمند کے گورنر کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد برطانوی اور افغان فوجوں نے مشترکہ طور پر موسیٰ قلعہ پر تین اطراف سے حملے کا آغاز کر رکھا ہے۔ طالبان نے شہر کے دفاع کے لیے بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ | اسی بارے میں ُموسٰی قلعہ میں فوجی آپریشن جاری04 December, 2007 | آس پاس چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی01 September, 2007 | آس پاس موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان06 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||