 | | | ہلمند میں اتحادی افواج کا ایک سپاہی (فائل فوٹو) |
افغانستان میں اتحادی افواج نے مسلح جھڑپوں میں کم از کم چالیس مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ہلمند کے علاقے میں موسی قلعہ کے ضلع میں افغان اور اتحادی افواج پر گھات لگا کر بھاری اسلحے سے حملہ کیا گیا تھا جس کے جوابی حملے میں اتحادی افواج نے فضائیہ کا استعمال کیا۔ اتحادی افواج نے ایک بیان میں کہا: ’اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپ میں تقریباً دو درجن مزاحمت کار ہلاک ہوگئے ہیں‘۔ تاہم بیان کے مطابق کوئی اتحادی یا افغان فوجی ہلاک نہیں ہوا۔ موسی قلعہ اس علاقے کا مرکزی قصبہ ہے جو اکتوبر دو ہزار چھ میں مقامی قبائلی عمائدین کے ذریعے مزاحمت کاروں اور برطانوی افواج کے درمیان ایک معاہدہ طے پانے اور نتیجتاً برطانوی دستوں کے انخلاء کے بعد سے طالبان کا گڑھ بن گیا ہے۔ اتحادی فوج نے ہلمند کے علاوہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے نورستان میں بیس اور غزنی میں متعدد طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی بھی کیا ہے۔ نورستان میں امریکی فوج کی قیادت میں اتحادی اور افغان فوج نے مزاحمت کاروں پر حملہ کیا جس میں بری اور فضائی فوج استعمال کی گئی۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نورستان میں ہونے والی کارروائی میں چالیس شہری ہلاک ہوئے ہیں تاہم اتحادی افواج نے اس کارروائی میں کسی عام شہری کی ہلاکت کی خبر کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے ایک برس میں افغانستان میں ایسی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے اور سال دوہزار سات میں اب تک تین ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ |