پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموبے کے امریکی فوجی اڈے میں قائم جیل میں تین سو سے زائد ایسے افراد زیر حراست ہیں جنہیں موجودہ امریکی انتظامیہ انتہاپسند جنگجؤ قرار دیتی ہے۔ امریکی حکومت انہیں دہشتگرد کہتی ہے، مگر انہیں مبینہ دہشتگردوں میں سے کچھ نے ذہنی کرب کے اظہار کے لیے شاعری کا سہارا لیا ہے۔گوانتاناموبے کے قیدیوں کی شاعری ایک امریکی وکیل مارک فیلکوف نے حال ہی میں ایک کتاب ’Poems from Guantanamo‘ یعنی گوانتاناموبے کی نظمیں شائع کی ہے۔ مارک فیلکوف کہتے ہیں کہ نظموں کے اس مجموعے کی اشاعت کا مقصد گوانتانامو کے قیدیوں کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنا ہے کہ یہ لوگ انسان ہیں دہشت گرد نہیں۔ اس شاعری کو شروع شروع میں امریکی فوجی دہشت گردوں کی خفیہ زبان بھی کہتے رہے اور اس پر پابندی رہی۔ لیکن فیلکوف بتاتے ہیں کہ بالآخر امریکی اہلکاروں کو احساس ہوگیا کہ یہ واقعی شاعری ہے۔ ابتداء میں تو قیدیوں کو کاغذ اور قلم صرف گھر والوں کو خط لکھنے کے لیے فراہم کیے جاتے تھے، جو ریڈ کراس بھجواتی تھی۔ کاغذ اور قلم کی غیر موجودگی میں گوانتانامو کے شاعر قیدی کھانے پینے کے برتنوں پر چمچوں کی مدد سے کھرچ کھرچ کر لکھتے اور کبھی کبھار ٹوتھ پیسٹ کا بھی استعمال کیا جاتا۔ فیلکوف کہتے ہیں کہ شعر لکھنے والے قیدیوں کو معلوم تھا کہ ان برتنوں کو ایک دفعہ استعمال کے بعد ضائع کر دیا جائے گا، لیکن پھر بھی ان کی خواہش تھی کہ کچھ لکھیں۔ ایک برس بعد قیدیوں کو کاغذ اور قلم ملنا شروع ہوگئے اور پھر قید کے درد و الم شاعری کے قالب میں ڈھلنے لگے۔
بحرین سے تعلق رکھنے والے قیدی جمعہ الدوساری نے کم از کم بارہ مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ جب گرفتار ہوئے تو ان کی بچی چھ برس کی تھی جسے دیکھنے کے لیے وہ تڑپتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: لے جاؤ میرا لہو فیلکوف کہتے ہیں کہ یہ نظمیں الگ الگ شاعرانہ اسلوب سے تعلق رکھتی ہیں۔ کچھ تو بالکل عامیانہ انداز کی ہیں جبکہ بعض بہت ہی نفیس معلوم ہوتی
وہ ایک قیدی ابراہیم الروبیعیش کی نظم ’Ode to the sea‘ سناتے ہیں: اے بحرِ بے کنار بائیس نظموں پر مشتمل اس کتاب میں پاکستانی قیدی عبدالرحیم مسلم دوست کی بھی دو نظمیں شامل ہیں۔ مسلم دوست اب رہا ہو چکے ہیں۔ فیلکوف کہتے ہیں کہ مسلم دوست کی نظمیں کوڑے میں کہیں گم ہو گئی تھیں جنہیں حافظے کی بنیاد پر ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں CIA کی خفیہ جیلیں، برطانوی رپورٹ26 July, 2007 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں کی بھی سنی گئی30 June, 2007 | آس پاس ’خودکشی کرنے والا سعودی فوجی‘01 June, 2007 | آس پاس گوانتانامو: حکومتی وکیل کو سزا19 May, 2007 | آس پاس ’جہاں اللہ اللہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہو‘12 April, 2007 | آس پاس ’زبردست‘ کھانوں پر بھی بھوک ہڑتال؟10 April, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’سول عدالتیں مجاز نہیں‘20 February, 2007 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||