BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 August, 2007, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں

گوانتانامو کی نظمیں
بائیس نظموں پر مشتمل اس کتاب میں پاکستانی قیدی عبدالرحیم مسلم دوست کی بھی دو نظمیں شامل ہیں
گوانتاناموبے کے امریکی فوجی اڈے میں قائم جیل میں تین سو سے زائد ایسے افراد زیر حراست ہیں جنہیں موجودہ امریکی انتظامیہ انتہاپسند جنگجؤ قرار دیتی ہے۔

امریکی حکومت انہیں دہشتگرد کہتی ہے، مگر انہیں مبینہ دہشتگردوں میں سے کچھ نے ذہنی کرب کے اظہار کے لیے شاعری کا سہارا لیا ہے۔گوانتاناموبے کے قیدیوں کی شاعری ایک امریکی وکیل مارک فیلکوف نے حال ہی میں ایک کتاب ’Poems from Guantanamo‘ یعنی گوانتاناموبے کی نظمیں شائع کی ہے۔

مارک فیلکوف کہتے ہیں کہ نظموں کے اس مجموعے کی اشاعت کا مقصد گوانتانامو کے قیدیوں کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنا ہے کہ یہ لوگ انسان ہیں دہشت گرد نہیں۔

اس شاعری کو شروع شروع میں امریکی فوجی دہشت گردوں کی خفیہ زبان بھی کہتے رہے اور اس پر پابندی رہی۔ لیکن فیلکوف بتاتے ہیں کہ بالآخر امریکی اہلکاروں کو احساس ہوگیا کہ یہ واقعی شاعری ہے۔

ابتداء میں تو قیدیوں کو کاغذ اور قلم صرف گھر والوں کو خط لکھنے کے لیے فراہم کیے جاتے تھے، جو ریڈ کراس بھجواتی تھی۔ کاغذ اور قلم کی غیر موجودگی میں گوانتانامو کے شاعر قیدی کھانے پینے کے برتنوں پر چمچوں کی مدد سے کھرچ کھرچ کر لکھتے اور کبھی کبھار ٹوتھ پیسٹ کا بھی استعمال کیا جاتا۔

فیلکوف کہتے ہیں کہ شعر لکھنے والے قیدیوں کو معلوم تھا کہ ان برتنوں کو ایک دفعہ استعمال کے بعد ضائع کر دیا جائے گا، لیکن پھر بھی ان کی خواہش تھی کہ کچھ لکھیں۔ ایک برس بعد قیدیوں کو کاغذ اور قلم ملنا شروع ہوگئے اور پھر قید کے درد و الم شاعری کے قالب میں ڈھلنے لگے۔

اظہار کے ذرائع
 کاغذ اور قلم کی غیر موجودگی میں گوانتانامو کے شاعر قیدی کھانے پینے کے برتنوں پر چمچوں کی مدد سے کھرچ کھرچ کر لکھتے اور کبھی کبھار ٹوتھ پیسٹ کا بھی استعمال کیا جاتا

بحرین سے تعلق رکھنے والے قیدی جمعہ الدوساری نے کم از کم بارہ مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ جب گرفتار ہوئے تو ان کی بچی چھ برس کی تھی جسے دیکھنے کے لیے وہ تڑپتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

لے جاؤ میرا لہو
میرا کفن بھی لے جاؤ
میری ہڈیاں بھی بچی ہیں تو وہ بھی لے جاؤ
قبر میں اگر میری تنہا لاش رہ گئی ہو تو اس کی تصویریں بنا لو
دنیا بھر میں ان کی تشہیر کرو
دکھاؤ انہیں انصاف کرنے والوں کو
ان لوگوں کو بھی جن کے ضمیر زندہ ہیں
ان سے کہو اس معصوم کی روح
اس لہو کا حساب مانگ رہی ہے
دنیا سے ۔۔۔ آنے والی نسلوں سے ۔۔۔ تاریخ سے
کیا جرم تھا اس بے گناہ کا
یہ کس جرم میں مارا گیا
یہ بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں مارا گیا
جو دنیا میں امن کے رکھوالے ہیں

فیلکوف کہتے ہیں کہ یہ نظمیں الگ الگ شاعرانہ اسلوب سے تعلق رکھتی ہیں۔ کچھ تو بالکل عامیانہ انداز کی ہیں جبکہ بعض بہت ہی نفیس معلوم ہوتی

قیدیوں کی شاعری کو امریکی فوجی دہشت گردوں کی خفیہ زبان بھی کہتے رہے اور اس پر پابندی رہی
ہیں۔ ’خاص کر تلمیحوں اور تشبہیوں کے استعمال میں اور ان سے جو تخیل بنتا ہے۔‘

وہ ایک قیدی ابراہیم الروبیعیش کی نظم ’Ode to the sea‘ سناتے ہیں:

اے بحرِ بے کنار
کیا ہمارے تغیر سے تو ناراض ہوتا ہے
ہم تو مجبور ہیں
نہ اپنی مرضی سے آئے نہ مرضی سے گئے
کیا تو ہمارے گناہ کو جانتا ہے
کیا تجھے معلوم ہے کہ ہم اس غم میں کیوں مبتلا ہیں
اے بحرِ بے کنار
تو ہماری قید پر ہمیں رسوا کرتا ہے
تو ہمارے دشمن سے جا ملا ہے اور ہم پر نظر رکھتا ہے !
کیا تیرے سینے میں سنگلاخ چٹانیں تجھے نہیں بتاتیں کہ یہاں کیا جرم ہوتا ہے
کیا کیوبا کا یہ بیاباں تجھے یہاں کے مظالم نہیں بتاتا ہے
ہم تیرے سامنے کتنے برسوں سے پڑے ہیں
اور تجھے کیا ملا، پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں ۔۔۔ دہکتے کوئلے کی مانند دل

بائیس نظموں پر مشتمل اس کتاب میں پاکستانی قیدی عبدالرحیم مسلم دوست کی بھی دو نظمیں شامل ہیں۔ مسلم دوست اب رہا ہو چکے ہیں۔ فیلکوف کہتے ہیں کہ مسلم دوست کی نظمیں کوڑے میں کہیں گم ہو گئی تھیں جنہیں حافظے کی بنیاد پر ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔

گوانتاناموشگوفےاور ہیری پوٹر
قیدیوں کیلیے اردو کتابیں، گوانتانامو ڈائری
گوانتاناموگوانتانامو ڈائری
گوانتانامو قیدی سورج کی روشنی سے بھی محروم
پہلا مقدمہ، پہلی سزا
گوانتانامو:مسلمان آسٹریلیوی کو سزائے قید
گوانتانامو’امید کے پودے‘
’گوانتانامو میں امید کے مرجھائے ہوئے پودے‘
دشمن فوجی یا نہیں؟
گوانتانامو میں خالد شیخ اور دیگر کی سماعت
ہتھکڑیگوانتانامو کی یادیں
سابق افغان سفیر کی کتاب ہاتھوں ہاتھ فروخت
لارڈ گولڈسمتھ’ناانصافی کی مثال‘
گوانتانامو کواب بند کر دینا چاہیے:گولڈ سمتھ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد