BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خودکشی کرنے والا سعودی فوجی‘
 کیمپ نمبر پانچ
کیمپ نمبر پانچ میں قیدیوں کوشدید تنہائی میں رکھا جاتا ہے: ایمنسٹی
امریکی حکام نے کہا ہے کہ گوانتانامو کے قید خانے میں بدھ کو جس قیدی نے بظاہر خود کشی کر لی تھی اس کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور وہ طالبان کی جانب سے لڑ رہا تھا۔

پہرے داروں نے جب عبدالرحمان الامیری کو ان کی کوٹھری میں دیکھا تو وہ سانس نہیں لے رہے تھے، جس پر پہرے داروں نے ان کی سانس بحال کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے مرحوم کی لاش واپس لانے کے لیے انتظامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

جزیرہ گوانتانامو پر، جہاں پر امریکہ تین سو اسی قیدیوں کو فرد جرم اور کسی مقدمے کی سماعت کے بغیر رکھا ہوا ہے، عبدالرحمان کی موت اس قسم کا چوتھا واقعہ ہے۔ گزشتہ سال جون میں دو سعودی اور ایک یمنی قیدی نے بھی خود کو پھانسی دے لی تھی۔

ان تین افراد کی خود کشی پر ایک سینیئر امریکی افسر نے شدید عضے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اقدام ایک گندی جنگ لڑنے کے مترادف تھا اور ان کی خود کشی مشتبہ دہشتگردوں کے لیے لوگوں کی ہمدردی لینے کا اچھا ذریعہ تھی۔

 ریکارڈ کے مطابق عبدالرحمان نے اقرار کیا تھا کہ وہ طالبان کی جانب سے لڑائی میں حصہ لے چکے تھے۔ عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا امریکہ پر حملہ کرنے کی خاطر نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے کے لیے کیا تھا
امریکی حکام

امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ حالیہ موت کیسے واقع ہوئی تاہم امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پہرے دار عبدالرحمان الامیری کی کوٹھڑی کا ’باقاعدگی‘ سے معائنہ کرتے رہے تھے۔

کمانڈر رِک ہاپٹ نے کہا: ’ ہم یہ جاننے کی پوری کوشش کریں گے کہ اصل میں ہوا کیا تھا اور ہماری کوشش ہو گی کہ آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔‘

کمانڈر نے یہ بھی بتایا ہے کہ عبدالرحمان کو کیمپ نمبر پانچ میں رکھا گیا تھا جو کہ حال ہی میں بنایا گیا ہے اور وہاں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

اس کیمپ کے بارے میں گزشتہ ماہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ وہاں ’ کے حا لات زیادہ برے ہیں کیونکہ وہاں قیدیوں کو مستقل طور پر شدید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور انہیں کچھ سننے یا دیکھنے سے محروم رکھا جاتا ہے۔‘

ایمنسٹی کے مطابق اس قسم کے غیر انسانی حالات قیدیوں کے اعصاب پر شدید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

کمانڈر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ عبدالرحمان الامیری اس سے پہلے بھی خود کشی کی کوشش کر چکے تھے تاہم ان کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں بھوک ہڑتال کرتے رہے تھے۔ کمانڈر کے مطابق عبدالرحمان کو ناک میں ٹیوب ڈال کر خوراک دی جاتی رہی ہے۔

عبدا الرحمان کو سنہ دو ہزار دو میں پاکستان سے پکڑ کر جزیرہ گوانتانامو پہنچایا گیا تھا

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ الامیری، جو کہ نو سال تک سعودی فوج میں بھی رہ چکے تھے، کو سنہ دو ہزار ایک میں افغانستان میں توڑا بوڑا کے مقام پر امریکی فوج کے خلاف لڑنے کی وجہ سے ایک ’دشمن جنگجو‘ کی حیثیت سے گوانتانامو میں رکھا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ وہ القاعدہ سے بھی منسلک تھے اور اسامہ بن لادن سے مل چکے تھے۔

ماضی میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ عبدالرحمان نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ سنہ دو ہزار دو میں افغانستان گئے تھے اور طالبان کی جانب سے لڑائی میں حصہ لے چکے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا امریکہ پر حملہ کرنے کی خاطر نہیں کیا تھا بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کیا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق عبدالرحمان نے کہا تھا کہ اگر ان کو امریکیوں کو مارنے کی خواہش ہوتی تو وہ انہیں اس وقت بھی مار سکتے تھے جب وہ سعودی عرب میں ان کے شانہ بشانہ کام کر رہے تھے۔

الامیری نے تفتیش کاروں سے مزید کہا تھا کہ جہاد میں شامل ہونے سے پہلے انہوں نے ایک ’جہادی سکول‘ سے تربیت بھی حاصل کی تھی اور انہیں فاصلے سے اسامہ بن لادن کو دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا۔

عبدا الرحمان کو سنہ دو ہزار دو میں پاکستان سے پکڑ کر جزیرہ گوانتانامو پہنچایا گیا تھا۔

گوانتانامو اور آپگوانتانامو اور آپ
شاہ زیب جیلانی سے سوال کیجئے
گوانتاناموشگوفےاور ہیری پوٹر
قیدیوں کیلیے اردو کتابیں، گوانتانامو ڈائری
امریکہ کی مدد کریں
گوانتانامو قید خانہ بند کرنے کے لیے مطالبہ
کتاب کاپوسٹرگوانتانامو کی کہانی
گوانتانامو جیل اور ملاّضعیف کی داستان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد