گوانتانامو: پہلا مقدمہ، پہلی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموبے میں قید آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہکس کو القاعدہ معاونت کے جرم میں زیادہ سے زیادہ سات سال قید تک کی سزا کا سامنا ہے۔ ہکس گوانتاناموبے کے پہلے قیدی ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف الزامات کا سامنا نئے امریکی قوانین کے تحت کیا ہے۔ اسلام اختیار کرنے والے اکتیس سالہ ڈیوڈ پر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے کیمپوں سے تربیت حاصل کرنے اور طالبان کے ساتھ مل کر لڑائی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ جمعہ کو آخر کار قانون سے ماورا امریکی قید خانے میں جاری عدالتی کارروائی کے دوران جج نے ڈیوڈ ہکس کا یہ اعتراف قبول تسلیم کر لیا کہ انہوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد کی تھی۔ ڈیوڈ ہکس نے یہ اعتراف ایک معاہدے کے تحت کیا جس کے مطابق ان کے اقرار جرم سے سزا میں تخفیف ہو سکتی تھی۔ معاہدے کے تحت ڈیوڈ ہکس نے اپنا یہ دعویٰ بھی واپس لے لیا ہے کہ امریکی تحویل میں ان پر زیادتیاں کی گئی تھیں۔ سات سال قید کی یہ سزا وہ اپنے ملک آسٹریلیا میں کاٹیں گے جو کہ ان پانچ سالوں کے علاوہ ہے جو وہ امریکی گوانتانامو کیمپ میں گزا چکے ہیں۔ خصوصی فوجی عدالت میں پیش کیے جانے والے اس پہلے مقدمے میں اکتیس سالہ ڈیوڈ نےگزشتہ پیر کو تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے دہشتگردی کے لیے سازو سامان فراہم کیا تھا۔
ڈیوڈ پر نئے ملٹری ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ فوجی عدالت میں کارروائی کے آغاز کے بعد ڈیوڈ ہکس کو باقاعدہ قصور وار ٹھہرایا گیا جبکہ کارروائی کی ابتداء میں ہکس نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا تھا تاہم بعد میں ان کے وکیل نے جج کو بتایا کہ انہوں نے قصور وار ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کے خلاف قتل جیسے دیگر الزامات کو ختم کردیا گیا تھا۔ پیر کو اعتراف جرم کے بعد استغاثہ اور وکلاء صفائی کو منگل تک کا وقت دیا گیا تھا تا کہ وہ ملزم کو سنائی جانے والی ممکنہ سزا پر کسی سمجھوتہ پر پہنچ سکیں۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے حکام پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے تھے کہ ہکس اپنی سزا اپنے آبائی وطن میں پوری کریں گے۔
ان کے والد نے بعدازاں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ملاقات کے دوران ان دونوں نے ہاتھ ملائے، ایک دوسرے سے گلے ملے اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ والد کا کہنا تھا کہ ہکس بہت زیادہ مضطرب نظر آ رہے تھے۔ ڈیوڈ ہکس 2002 سے گوانتاناموبے میں قید ہیں۔ انہیں افغانستان سے گرفتار کرکے یہاں لایا گیا تھا۔ اس سے قبل اگست 2004 میں انہیں قصوار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کی گئی تھی تاہم گزشتہ سال امریکی سپریم کورٹ نے اس نظام کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ بعدازاں بش انتظامیہ نے رائج ٹربیونل سسٹم میں رد و بدل کیا تھا جس کی منظوری کانگریس نے دی تھی۔ اس نئے نظام کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنے والے ہکس پہلے شخص ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے قانونی نظام کے تحت گوانتاناموبے میں قید 385قیدیوں میں سے 80 کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنطیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان مقدمات کی مذمت کی ہے اور انہیں ’دکھاوے کے مقدمات‘ قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتاناموبے میں بھوک ہڑتال جاری01 October, 2005 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||