 | | | گوانتانامو بے کی جیل میں اب بھی ساڑھے پانچ سو قیدی ہیں |
امریکی بحریہ کے ایک وکیل کو، گوانتانامو بے کے 550 قیدیوں کے نام حقوق انسانی کے ایک وکیل کو فراہم کرنے کے الزام میں، چھ ماہ قید اور ملازمت سے برطرفی کا سامنا ہے۔ لیفٹننٹ کموڈور میتھیو ڈیاز نے 2005 میں گوانتانامو بے میں اپنی ملازمت کے آخری دنوں میں ان قیدیوں کے نام ویلنٹائن ڈے کارڈ میں بھر کر ارسال کیے۔ عدالت میں سماعت کے دوران میتھیو ڈیاز نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ ’غیرمنطقی‘ تھا۔ انہوں نے ویلنٹائن ڈے کارڈ نیویارک میں واقع انسانی حقوق کے ادارے سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس کے ایک وکیل کو بھیجا تھا۔ امریکی فوج نے ابتدا میں گوانتانامو بے کے قیدیوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن 2006 میں یہ نام اس وقت ظاہر کیے گئے جب خبر رساں ادارے اے پی نے عدالت سے اس بات کی اجازت حاصل کرلی۔ کورٹ مارشل کے دوران لیفٹننٹ ڈیاز پر خفیہ اطلاعات کی ترسیل کا جرم ثابت ہوا جس کا استعمال امریکہ کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جاسکتا تھا۔ ان پر ایک شخص کو اطلاعات کی فراہمی کے تین دیگر الزامات بھی ثابت ہوئے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق قید کے دوران میتھیو ڈیاز کو پوری تنخواہ ملتی رہے گی۔ ڈیاز نے معافی مانگ لی ہے اور وہ عدالت کے فیصلے کے خلا ف اپیل کرسکتے ہیں۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے کے قیدیوں سے امریکہ کو شدید خطرہ ہے اور انہیں کوئی اذیت نہیں دی جاتی ہے۔ |