BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 April, 2007, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتا نامو میں حالات ابتر: ایمنسٹی
گوانتا نامو
گوانتا نامو میں بعض قیدی گزشتہ پانچ سال سے زیر حراست ہیں
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق امریکی فوجی قید خانے گوانتا نامو بے میں قیدیوں کی حالت مزید ابتر ہو رہی ہے خاص طور پرایسے قیدیوں کی جو قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر اوقات کیمپ کے سخت اور غیر انسانی حالات ان لوگوں کے لیے بہت کربناک ہوتے ہیں اور انہیں انتہائی اقدام اٹھانے کے قریب کر دیتے ہیں۔

انہوں نے اس مرکز کو بند کرنے اور خصوصی فوجی عدالت میں مقدمات کی ناانصافی پر مبنی سماعت کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہاں موجود تین سو پچاسی قیدیوں میں سے زیادہ تر پانچ سال سے زیادہ عرصے سے زیر حراست ہیں اور وہ اپنی غیر قانونی حراست کو چیلنج بھی نہیں کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’اگر چہ امریکہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کرے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ انسانی حقوق کو پورا کرنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔،

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ بش انتظامیہ کی طرف سے یہ بیان کہ یہ لوگ خطرناک دشمن یا دہشت گرد یا بہت برے لوگ ہیں یہ جواز نہیں پیش کرتا کہ ان لوگوں کو مکمل طور پر ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے۔،

ایمنسٹی انٹرنیشنل نےاپنے اس مطالبے کو بھی دوہرایا ہے کہ کیوبا کے عقوبت خانے میں مقید افراد کو، جن میں سے بیشتر پر طالبان یا القاعدہ جنگجو ہونے کا شبہ ہے، رہا کیا جائے اور یا ان پر فرد جرم عائد کی جائے اور ان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔

رہا کریں یا فرد جرم لگائیں
 کیوبا کے عقوبت خانے میں مقید قیدیوں جن میں سے بیشتر پر طالبان یا القاعدہ جنگجو ہونے کا شبہ ہے کو رہا کیا جائے یا ان پر فرد جرم عائد کی جائے
ایمنسٹی انٹرنیشنل

جمعرات کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً تین سو قیدیوں کو نئے قید خانے میں رکھا گیا ہے جو کیمپ فائیو، کیمپ سکس اور کیمپ ایکو کے نام سے جانے جاتے ہیں، جوامریکہ کے سپر میکس کے مقابلے میں ہائی سیکورٹی یونٹ ہے۔

گروپ نے کہا ہے کہ اس عقوبت خانے میں نسبتاً زیادہ سخت اور مستقل بنیادوں پر قید تنہائی جیسے حالات رکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو باقاعدہ طور پر بائیس گھنٹوں کے لیے بنا کسی روشندان والے کمرے میں رکھا جاتا ہے اور دن کی روشنی دکھائے بغیر رات کو صرف دو گھنٹے کے لیے ورزش کرائی جاتی ہے۔

تنظیم کے برطانیہ کے ڈائریکٹر کیٹ ایلن نےان سزاؤں کو انصاف کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ ان میں سے کئی مایوس قیدی پہلے ہی غیر معینہ مدت کی قید کاٹ رہے ہیں اور ان میں سے کچھ خطرناک حد تک
ذہنی اور جسمانی توڑ پھوڑ کی کیفیت کے قریب ہیں۔‘

’امریکی اہلکاروں کو قیدیوں کو تنہا رکھنے جیسی شدید سزاؤں کو فوراً بند کردینا چاہیے۔ اور ان کو خودمختار طبی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی قیدیوں تک آزادانہ رسائی کی بھی اجازت دینی چاہیے۔

کیمپ ڈیلٹا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریبا تین سو قیدیوں کو نئے قید خانے میں رکھا گیا ہے

فروری میں امریکہ کے وفاقی اپیل کورٹ نےقیدیوں کو حراست کو چیلنج
کرنے کے حق سے محروم رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی۔

دہشت گردی کے خلاف نئے قانون کے لیے گزشتہ سال امریکی صدر بش نے کانگریس سے کہا تھا کہ دہشتگردوں کو عدالت تک لانے کے لیے نئے قانون کی ضرورت ہے۔

یہ قانون خطرناک دشمنوں کو لامتناہی وقت تک قید میں رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ تین سو پچاسی قیدیوں میں سے اسی کے خلاف خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلانےکا ارادہ رکھتے ہیں۔

دشمن فوجی یا نہیں؟
گوانتانامو میں خالد شیخ اور دیگر کی سماعت
گوانتانامو’امید کے پودے‘
’گوانتانامو میں امید کے مرجھائے ہوئے پودے‘
ہتھکڑیگوانتانامو کی یادیں
سابق افغان سفیر کی کتاب ہاتھوں ہاتھ فروخت
لارڈ گولڈسمتھ’ناانصافی کی مثال‘
گوانتانامو کواب بند کر دینا چاہیے:گولڈ سمتھ
تشدد قطعی غلط ہے
’امریکہ کا قانون تشدد کی اجازت نہیں دیتا‘
گوانتانامو جیل سے
قیدیوں کی روداد، ان کی اپنی زبانی
گوانتاناموگوانتانامو پر نئی کتاب
600قیدیوں میں چنددرجن دہشت گردہوں گے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد