گوانتا نامو میں حالات ابتر: ایمنسٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق امریکی فوجی قید خانے گوانتا نامو بے میں قیدیوں کی حالت مزید ابتر ہو رہی ہے خاص طور پرایسے قیدیوں کی جو قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر اوقات کیمپ کے سخت اور غیر انسانی حالات ان لوگوں کے لیے بہت کربناک ہوتے ہیں اور انہیں انتہائی اقدام اٹھانے کے قریب کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اس مرکز کو بند کرنے اور خصوصی فوجی عدالت میں مقدمات کی ناانصافی پر مبنی سماعت کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں موجود تین سو پچاسی قیدیوں میں سے زیادہ تر پانچ سال سے زیادہ عرصے سے زیر حراست ہیں اور وہ اپنی غیر قانونی حراست کو چیلنج بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں امریکہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’اگر چہ امریکہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کرے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ انسانی حقوق کو پورا کرنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔، انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ بش انتظامیہ کی طرف سے یہ بیان کہ یہ لوگ خطرناک دشمن یا دہشت گرد یا بہت برے لوگ ہیں یہ جواز نہیں پیش کرتا کہ ان لوگوں کو مکمل طور پر ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے۔، ایمنسٹی انٹرنیشنل نےاپنے اس مطالبے کو بھی دوہرایا ہے کہ کیوبا کے عقوبت خانے میں مقید افراد کو، جن میں سے بیشتر پر طالبان یا القاعدہ جنگجو ہونے کا شبہ ہے، رہا کیا جائے اور یا ان پر فرد جرم عائد کی جائے اور ان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔
جمعرات کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً تین سو قیدیوں کو نئے قید خانے میں رکھا گیا ہے جو کیمپ فائیو، کیمپ سکس اور کیمپ ایکو کے نام سے جانے جاتے ہیں، جوامریکہ کے سپر میکس کے مقابلے میں ہائی سیکورٹی یونٹ ہے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس عقوبت خانے میں نسبتاً زیادہ سخت اور مستقل بنیادوں پر قید تنہائی جیسے حالات رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو باقاعدہ طور پر بائیس گھنٹوں کے لیے بنا کسی روشندان والے کمرے میں رکھا جاتا ہے اور دن کی روشنی دکھائے بغیر رات کو صرف دو گھنٹے کے لیے ورزش کرائی جاتی ہے۔ تنظیم کے برطانیہ کے ڈائریکٹر کیٹ ایلن نےان سزاؤں کو انصاف کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ ان میں سے کئی مایوس قیدی پہلے ہی غیر معینہ مدت کی قید کاٹ رہے ہیں اور ان میں سے کچھ خطرناک حد تک ’امریکی اہلکاروں کو قیدیوں کو تنہا رکھنے جیسی شدید سزاؤں کو فوراً بند کردینا چاہیے۔ اور ان کو خودمختار طبی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی قیدیوں تک آزادانہ رسائی کی بھی اجازت دینی چاہیے۔
فروری میں امریکہ کے وفاقی اپیل کورٹ نےقیدیوں کو حراست کو چیلنج دہشت گردی کے خلاف نئے قانون کے لیے گزشتہ سال امریکی صدر بش نے کانگریس سے کہا تھا کہ دہشتگردوں کو عدالت تک لانے کے لیے نئے قانون کی ضرورت ہے۔ یہ قانون خطرناک دشمنوں کو لامتناہی وقت تک قید میں رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ تین سو پچاسی قیدیوں میں سے اسی کے خلاف خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلانےکا ارادہ رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں گوانتانامو: ڈیوڈ ہکس کو نو ماہ قید31 March, 2007 | آس پاس تشدد کے نتیجے میں اعتراف کیا: قیدی30 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو: پہلا مقدمہ، پہلی سزا30 March, 2007 | آس پاس امیدوں کے پودے مُرجھا رہے ہیں16 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’امریکہ کی مدد کریں‘22 January, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’سول عدالتیں مجاز نہیں‘20 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||