BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 March, 2007, 22:24 GMT 03:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امیدوں کے پودے مُرجھا رہے ہیں
گوانتانامو
اسی کیمپ میں کچھ قیدیوں نے گارڈز سے چھپ کر ایک کونے میں باغبانی شروع کر دی تھی
امریکی فوجیوں کے ساتھ تعاون اور ان کا کہا ماننے والے قیدیوں کو’ کیمپ ڈیلٹا چار‘ میں رکھا جاتا ہے۔

ہمیں چھ فوجیوں کی نگرانی میں یہ کیمپ دکھانے کے لیے لایا گیا تو خاردار تاروں کے پیچھے مجھے دو قیدی بیٹھے نظر آئے۔ ہمیں دیکھا تو آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ میں نے اپنا کیمرہ نکالا تو انہوں نے اپنے منہ پھیر لیے اور خود کو چُھپانے لگے۔

امریکیوں کے مطابق، اس کیمپ میں قیدیوں کے ساتھ نسبتاً نرمی برتی جاتی ہے۔ انہیں دس سے بارہ گھنٹے روزانہ ورزش اور کھیل کود کی اجازت ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ قیدی فٹ بال، باسکٹ بال اور والی بال شوق سے کھیلتے ہیں۔

پچھلے برس اسی کیمپ میں کچھ قیدیوں نے گارڈز سے چھپ کر ایک کونے میں باغبانی شروع کر دی تھی۔ وہ پانی سے زمین نرم کرتے، انگلیوں اور پلاسٹک کے چمچوں سےمٹی کھودتے اور پھر کھانے میں دیئے جانے والی تربوز، ٹماٹر اور مرچوں کے بیج بوتے۔

ایک قیدی کے وکیل کے ذریعے جب یہ بات امریکی میڈیا تک پہنچی تو مبصرین نے قیدیوں کی اس کوشش کو ان کی آزادی کی امیدوں سے تعبیر کیا۔ پینٹاگون کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فوراً حکم صادر کر دیا کہ حراستی مرکز میں یہ سب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔

جواب میں قیدیوں کے وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا کہ باغبانی جیسے بے ضرر کام سے بھلا امریکہ کی طاقتور فوج کو کیا خطرہ ہے۔ اس مسئلے پر امریکی فوج کافی عرصے تک شش وپنج کا شکار رہی۔ پھر فوج نے یہ سوچتے ہوئے کہ شاید اس سے گوانتانامو بے کا خراب عالمی تاثر بہتر کرنے میں مدد ملے، حال ہی میں محدود باغبانی کی اجازت دے دی۔

کیمپ میں موجود ایک مرجھایا پودا

کیمپ ڈیلٹا چار کے دورے میں میرے بار بار اصرار پر فوجیوں نے ہمیں لے جا کر وہ جگہ دکھائی جہاں اب قیدیوں کو تھوڑی بہت باغبانی کی اجازت ہے۔ وہاں ہمیں کھدائی اور باغبانی کے لئے پلاسٹک کے چند چھوٹے چھوٹے اوزار پڑے ہوئے نظر آئے۔ مٹی نرم تھی لیکن اس میں زرخیزی نظر نہیں آئی۔ وہاں کوئی لہلہاتے پھول پودے نہیں لگے نظر آئے۔ جو دو چھوٹے چھوٹے پودے تھے وہ سلاخوں اور خاردار تاروں کے پیچھے قیدیوں کی طرح مُرجھائے ہوئے تھے۔

امریکی فوجیوں کا دعویٰ ہے کہ اپنے تئیں وہ تو فراخدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اب اگر قیدیوں کی طرف سے بوئے گئے ’امیدوں کے یہ پودے‘ گوانتاناموبے میں سورج کی تیز تپش نہیں برداشت کر پا رہے تو اس میں ان کا کیا قصور؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد