گوانتانامو: ڈیوڈ ہکس کو نو ماہ قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموبے میں قید آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہکس کو ایک فوجی عدالت نے نو ماہ قید کی سزا سنائی ہے جو انہیں اپنے آبائی وطن میں پوری کرنا ہو گی۔ دہشت گرد کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے کے اعتراف کے بعد عدالت نے اکتیس سالہ ڈیوڈ کو سات سال قید کی سزا سنائی تاہم نو ماہ کو چھوڑ کر ان کی باقی کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔ ڈیوڈ کو افغانستان میں طالبان کے ساتھ لڑائی کے دوران پکڑا گیا تھا۔ وہ پچھلے پانچ سال سے گوانتانامو بے کی جیل میں قید تھے۔ واضح رہے کہ ڈیوڈ پر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے کیمپوں سے تربیت حاصل کرنے اور طالبان کے ساتھ مل کر لڑائی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مقدمہ کی ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے اپنے خلاف لگائے الزامات سے جمعہ کی شام سزا سنانی والی عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اعتراف کی صورت میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سمجھوتے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نو ماہ سے زیادہ کوئی بھی سزا معطل کردی جائے گی۔
عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ کو ساٹھ دن کے اندر انہیں اپنے آبائی وطن یعنی آسٹریلیا بھیجنا ہے تاکہ وہ سنائی جانےوالی سزا کی مدت پوری کر سکیں۔ نو مسلم ڈیوڈ نے جمعہ کو عدالت میں سماعت کے دوران سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا، اور ان کے بال جو گزشتہ سماعت کے موقع پر ان کے سینے تک بڑھے ہوئے تھے، اس مرتبہ چھوٹے تھے۔ پانچ سال قبل گوانتاناموبے کی جیل کے قیام اور یہاں لانے جانے والے قیدیوں میں ڈیوڈ وہ پہلے شخص ہیں جن پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔ امریکہ کے مطابق دیگر قیدی بھی بتدریج اسی قسم کی عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد ڈیوڈ وہ پہلے شخص ہیں جن پر یو ایس وار کرائم کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ وکلائے استغاثہ اور صفائی کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے تحت ہکس اپنے اس دعوی سے دستبردار ہوگئے ہیں کہ انہیں قید کے دوران بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل ڈیوڈ نے مبینہ طور پر یہ الزام لگایا تھا کہ افغانستان میں گرفتاری کے بعد امریکی فوج نے ان پر تشدد کیا ہے۔ سماعت کے دوران ڈیوڈ نے اس بات کا اقرار کیا کہ 2002 میں گوانتاناموبے میں لائے جانے سے قبل اور اس کے بعد بھی امریکی قید کے دوران کسی شخص نے ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خلافِ قانون سلوک روا نہیں رکھا۔
امریکہ میں آئینی حقوق کے مرکز کے سربراہ ونسٹ وارن کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے خلاف تنقید کو خاموش کروانے کی کوشش میں ہے اور وہ لوگوں سے اصل حقائق اور قیدیوں کے ساتھ روا تشدد اور بدسلوکی کو چھپانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت ہکس اس بات پر بھی راضی ہو گئے ہیں کہ وہ ایک سال تک میڈیا سے اپنی قید کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنی کہانی بیان کرنے کے عوض کوئی پیسے لیں گے اور نہ ہی وہ امریکی حکومت پر کوئی مقدمہ کریں گے۔ جمعہ کو سماعت کے دوران انہیں نے جج کو بتایا کہ ان کا اعتراف حقیقی ہے اور انہوں نے محض وطن واپسی کے لیے کسی چال بازی سے کام نہیں لیا ہے۔ تاہم ان کے والد کا کہنا تھا کہ یہی وہ اصل وجہ تھی جس کے بعد ڈیوڈ اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ اعتراف کر لیں گے۔ آسٹریلیا کی حکومت نے ڈیوڈ ہکس کو دی جانی والی نو ماہ کی سزا کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ |
اسی بارے میں گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتاناموبے میں بھوک ہڑتال جاری01 October, 2005 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||