BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 06:24 GMT 11:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: ڈیوڈ ہکس کو نو ماہ قید
ڈیوڈ گوانتاناموبے کے پہلے شخص ہیں جن پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے
گوانتاناموبے میں قید آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہکس کو ایک فوجی عدالت نے نو ماہ قید کی سزا سنائی ہے جو انہیں اپنے آبائی وطن میں پوری کرنا ہو گی۔

دہشت گرد کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے کے اعتراف کے بعد عدالت نے اکتیس سالہ ڈیوڈ کو سات سال قید کی سزا سنائی تاہم نو ماہ کو چھوڑ کر ان کی باقی کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔

ڈیوڈ کو افغانستان میں طالبان کے ساتھ لڑائی کے دوران پکڑا گیا تھا۔ وہ پچھلے پانچ سال سے گوانتانامو بے کی جیل میں قید تھے۔ واضح رہے کہ ڈیوڈ پر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے کیمپوں سے تربیت حاصل کرنے اور طالبان کے ساتھ مل کر لڑائی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مقدمہ کی ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے اپنے خلاف لگائے الزامات سے
انکار کیا تھا تاہم بعد ازاں اعتراف کی صورت میں وکیل استغاثہ سے ہونے والے ایک سمجھوتے کے تحت انہیں کم سے کم سات سال قید کی سزا سنائی جا سکتی تھی۔

جمعہ کی شام سزا سنانی والی عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اعتراف کی صورت میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سمجھوتے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نو ماہ سے زیادہ کوئی بھی سزا معطل کردی جائے گی۔

ہکس ایک سال تک میڈیا سے اپنی قید کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے

عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ کو ساٹھ دن کے اندر انہیں اپنے آبائی وطن یعنی آسٹریلیا بھیجنا ہے تاکہ وہ سنائی جانےوالی سزا کی مدت پوری کر سکیں۔

نو مسلم ڈیوڈ نے جمعہ کو عدالت میں سماعت کے دوران سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا، اور ان کے بال جو گزشتہ سماعت کے موقع پر ان کے سینے تک بڑھے ہوئے تھے، اس مرتبہ چھوٹے تھے۔

پانچ سال قبل گوانتاناموبے کی جیل کے قیام اور یہاں لانے جانے والے قیدیوں میں ڈیوڈ وہ پہلے شخص ہیں جن پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔

امریکہ کے مطابق دیگر قیدی بھی بتدریج اسی قسم کی عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد ڈیوڈ وہ پہلے شخص ہیں جن پر یو ایس وار کرائم کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

وکلائے استغاثہ اور صفائی کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے تحت ہکس اپنے اس دعوی سے دستبردار ہوگئے ہیں کہ انہیں قید کے دوران بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل ڈیوڈ نے مبینہ طور پر یہ الزام لگایا تھا کہ افغانستان میں گرفتاری کے بعد امریکی فوج نے ان پر تشدد کیا ہے۔

سماعت کے دوران ڈیوڈ نے اس بات کا اقرار کیا کہ 2002 میں گوانتاناموبے میں لائے جانے سے قبل اور اس کے بعد بھی امریکی قید کے دوران کسی شخص نے ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خلافِ قانون سلوک روا نہیں رکھا۔

آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہکس کے دو بچے بھی ہیں

امریکہ میں آئینی حقوق کے مرکز کے سربراہ ونسٹ وارن کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے خلاف تنقید کو خاموش کروانے کی کوشش میں ہے اور وہ لوگوں سے اصل حقائق اور قیدیوں کے ساتھ روا تشدد اور بدسلوکی کو چھپانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت ہکس اس بات پر بھی راضی ہو گئے ہیں کہ وہ ایک سال تک میڈیا سے اپنی قید کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنی کہانی بیان کرنے کے عوض کوئی پیسے لیں گے اور نہ ہی وہ امریکی حکومت پر کوئی مقدمہ کریں گے۔

جمعہ کو سماعت کے دوران انہیں نے جج کو بتایا کہ ان کا اعتراف حقیقی ہے اور انہوں نے محض وطن واپسی کے لیے کسی چال بازی سے کام نہیں لیا ہے۔ تاہم ان کے والد کا کہنا تھا کہ یہی وہ اصل وجہ تھی جس کے بعد ڈیوڈ اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ اعتراف کر لیں گے۔

آسٹریلیا کی حکومت نے ڈیوڈ ہکس کو دی جانی والی نو ماہ کی سزا کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

نےگوانتانامو جیلیہ’ بےقاعدگی‘ ہے
گوانتانامو جیل کو ختم ہونا چاہیے: ٹونی بلیئر
نئی جیل کیمپ 6نئی امریکی جیل
کیمپ 6، گوانتانامو کی نئی جیل، تصاویر
دشمن فوجی یا نہیں؟
گوانتانامو میں خالد شیخ اور دیگر کی سماعت
گوانتانامو’امید کے پودے‘
’گوانتانامو میں امید کے مرجھائے ہوئے پودے‘
گوانتانامو’تشدد رکا نہیں ہے‘
گوانتانامومیں قیدیوں پر تشدد جاری ہے: ایمنسٹی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد