گوانتانامو، شگوفے، شاعری اور ہیری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے پانچ برس سے یہاں قیدِ تنہائی کاٹنے والوں کو زیادہ اندازہ نہیں کہ روزانہ باہر کی دنیا کیا کچھ ہو جاتاہے۔ یہاں کوئی اخبار نہیں، ریڈیو نہیں، ٹی وی نہیں۔ البتہ قیدیوں کے لیے امریکیوں نے یہاں چھوٹی سی ایک لائبریری قائم کر رکھی ہے لیکن قیدیوں کو اس لائبریری تک جانے کی اجازت نہیں۔ تاہم انہیں جب بھی کوئی کتاب چاہیے ہوتی ہے تو وہ سکیورٹی گارڈز سے درخواست کرکے ہفتے میں ایک کتاب منگوا سکتے ہیں۔ لائبریری میں قیدیوں کے لیے تیرہ مختلف زبانوں میں کتابیں موجود ہیں۔ سب زیادہ کتابیں عربی زبان میں ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے فارسی، پشتو اور انگریزی زبانوں میں بھی بے شمار کتابیں رکھی نظر آئیں۔ تجسساً پوچھا: اردو میں آپ کے پاس کیا ہے؟
لائبریرین جا کر دو کتابیں نکال لائی۔ یہ کتابیں دیکھ کر حیرانی سی ہوئی: ایک کتاب کا عنوان تھا ’شگوفے‘ جب کہ دوسری بچوں کو سکول میں پڑھائی جانے والی کتاب ’ہم سب پاکستانی ہیں‘۔ کیا امریکی فوج قیدیوں کے ساتھ جان بوجھ کر کوئی مذاق کر رہی ہے یا پھر یہ کتابیں بِلا سوچے سمجھے یہاں رکھ دی گئیں؟ لائبریرین نے بتایا کہ قیدیوں کی لائبریری میں کتابیں دیکھ بھال کر رکھی جاتی ہیں۔ حکام کی کوشش ہوتی ہے کہ قیدیوں میں ’مثبت رجحانات‘ کو فروغ دینے کے لیے امن، پیار، محبت اور برداشت سے متعلق موضوعات پر کتابیں رکھی جائیں۔
مثلاً مجھے بتایا گیا کہ ہیری پوٹرکی جادوئی داستانیں یہاں قیدی شوق سے مانگتے رہے ہیں۔ لائبریری میں مجھے ہیری پوٹر کے عربی اور فارسی ترجمےنظر آئے۔ اسی طرح بتایا گیا کہ کچھ قیدیوں کو شاعری پڑھنے سے خاصی دلچسپی ہے۔ لائبریرین کے مطابق، عربی میں خلیل جبران جبکہ پشتو میں رحمان بابا کے مجموعے قیدیوں میں مقبول رہے ہیں۔ لیکن لائبریرین نے واضع کیا کہ قیدیوں کی اکثریت کو رومانوی اور افسانوی کتابوں سے زیادہ دلچسپی نہیں اور وہ تاریخ، جغرافیہ اور سیاست سے متعلق کتابوں کا زیادہ مطالبہ کرتے ہیں۔ یہاں مغربی جمہوریت، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور افغانستان کے نئے آئین کو پڑھا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ اسلامی کتابیں اور پیغمبرِ اسلام کی سوانح حیات پڑھی جاتی ہیں۔ اور کیا قیدی عالمی قوانین یا جنیوا کنوینشن پر کتابیں مانگتے ہیں کہ جن کی خلاف ورزی کہ الزامات کے تحت امریکہ نے ان لوگوں کو لاکر یہاں رکھا ہے؟
’جی نہیں! نہ وہ قانون پر کتابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں نہ ہم لائبریری میں قانون پر زیادہ کتابیں رکھتے ہیں‘۔ لائبریرین کے اس جواب پر مجھے کوئی خاص یقین نہیں آیا۔ ذہن یہ یہ بات بھی آئی کہ افغانستان کے میدانِ جنگ سے اٹھائے گئے اور امریکہ کو پاکستانی آئی ایس آئی کی طرف سے پکڑ پکڑ کردیئے جانے والوں میں کافی لوگ تو ان پڑھ تھے، ان کے لیے پانچ ہزار کتابوں پر مشتعمل یہ لائبریری کس کام کی؟ لائبریرین نے کہا کہ جو پڑھ لکھ نہیں سکتے ان کے لیے تصویری کتابوں کا اہتمام ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم انہیں جانوروں پر تصویری کتابیں دیتے، مشرقِ وسطی پر کتابیں دیتے ہیں جنہیں دیکھ دیکھ کر وہ اپنا دل بہلاتے ہیں‘۔ (شا ہ زیب جیلانی کا گوانتانامو کا یہ دورہ امریکی فوج کی کڑی نگرانی میں کیا۔ گوانتانامو کے حراستی مرکز کے اندر انہوں نے جو کچھ دیکھا اور سنُا اس کا ذکر ان کے سلسلہ وار کالموں ’گوانتانامو ڈائری‘ میں جاری ہے) | اسی بارے میں پتہ نہیں باہر دن ہے یا رات؟06 April, 2007 | آس پاس امیدوں کے پودے مُرجھا رہے ہیں16 March, 2007 | آس پاس لاپتہ قیدی: امریکہ پر نیا الزام01 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||