BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 April, 2007, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پتہ نہیں باہر دن ہے یا رات؟

گوانتانامو بے
کیمپ ڈیلٹا چھ یہاں قائم مختلف کیمپوں میں سب سے نیا اور جدید ترین ہے
تلاوتِ قرآن کی آوازیں گوانتاناموبے کے انتہائی سکیورٹی والے کیمپ ڈیلٹا چھ سے روزانہ بلند ہوتی ہیں۔ نماز کا وقت ہو تو آپ کو یہاں کے لاؤڈ اسپیکر کے نظام پر آذان بھی سنائی دے سکتی ہے۔ قیدِ تنہائی میں رکھے جانے والے افراد کو یہاں باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ لیکن وہ اپنے الگ الگ تنگ سے قید خانوں میں ایک وقت پر نماز پڑھ سکتے ہیں۔

کیمپ ڈیلٹا چھ یہاں قائم مختلف کیمپوں میں سب سے نیا اور جدید ترین ہے۔ اسے دسمبر دو ہزار چھ میں امریکہ کے سب سے خطرناک سمجھے جانے دشمن قیدیوں کے لیے تعمیر کیا گیا۔

حال ہی میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا مُبینہ فخریہ اقرار کرنے والے خالد شیخ محمد بھی یہیں کہیں پائے جاتے ہیں؟ میں نے اس دورے میں ہماری نگرانی پر سائے کی طرح مامور امریکی فوجیوں سے جاننا چاہا۔ جواب ملا:’ہمیں قیدیوں کے بارے میں اس قسم کی مخصوص معلومات دینے کی اجازت نہیں۔"

اس دورے میں ہمیں قیدیوں کے قریب جانے یا ان سے بات کرنے کی قطعی اجازت نہیں۔لیکن میں دور دور سے ہی سہی یہاں موجود بعض قیدیوں کی جھلک دیکھ پایا۔

گوانتانامو
گوانتانامو بے میں برسوں سے قیدِ تنہائی کے شکار افراد کی ذہنی حالت بگڑتی جا رہی ہے
بعض قیدی اپنے چھوٹے چھوٹے سے قید خانوں میں تیزی سے چہل قدمی کرتے نظر آئے۔ اکثر بڑے ہی جذباتی انداز میں اپنے آپ سے باتیں کرتے بھی دِکھے۔ آہنی دروازوں میں چھوٹے سے شیشوں کے پیچھے میری جتنے بھی قیدیوں پر نگاہ پڑی، وہ تمام کے تمام باریش نظر آئے۔

ہمیں بتایا گیا کہ کیمپ ڈیلٹا پانچ اور چھ سب سے’خطرناک" قیدیوں کے لیے مختص ہیں۔ یہاں کے آہنی دروازے ایک سنٹرل کمپیوٹر کنٹرول سسٹم کے تحت کھُلتے اور بند ہوتے ہیں۔ قیدیوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے ہر قید خانے میں سکیورٹی کیمرے نصب ہیں اور ہر وقت لائٹیں روشن رہتی ہیں۔

ہمیں اندر سے ایک خالی قید خانہ بھی دکھایا گیا۔ ان چھوٹے سے قیدخانوں میں سونے کی جگہ اور کھلے عام رفع حاجت کی جگہیں ساتھ ساتھ ہیں۔

انتہائی سکیورٹی والی اس پوری عمارت میں کوئی کھڑکیاں نہیں۔ اس میں نہ باہر سے تازہ ہوا اندر آ سکتی ہے نہ سورج کی روشنی۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق یہاں رکھے جانے والے قیدیوں کو اکثر کئی کئی روز تک سورج کی روشنی نصیب نہیں ہوتی اور یہ پتہ نہیں ہوتا کہ باہر دن ہے یا رات۔ جس کی وجہ سے گوانتانامو بے میں برسوں سے قیدِ تنہائی کے شکار افراد کی ذہنی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔

لیکن میرے اس دورے میں امریکی فوجیوں کا مسلسل اصرار ہے کہ قیدیوں کا یہاں پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، اس کیمپ میں قیدیوں کی جسمانی صحت کے لیے انہیں روزانہ دو گھنٹے چہل قدمی کا اجازت ہے۔ اگر وہ کھیل کود کرنا چاہیں تو اس کے لیے فٹ بال موجود ہیں جن سے انہیں اکیلے ہی سہی کھیلنے کی اجازت ہے۔

میں امریکی فوج کے ان دعوؤں کی تصدیق کرنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ اپنے اس چار روزہ دورے میں مجھےقیدیوں کے فٹ بال کورٹ اور باسکٹ بال کورٹ تو دکھائے گئے لیکن کہیں بھی ایک بھی قیدی کھیلتا کودتا دکھائی نہیں دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد