CIA کی خفیہ جیلیں، برطانوی رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سی آئی اے کے ہاتھوں یورپی ممالک سے اغواء کے واقعات یعنی ’رینڈیشن‘ کی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد انسداد دہشت گردی اور انٹیلیجنس کے تبادلے سے متعلق امریکہ سے برطانیہ کے تعلقات کتنے مضبوط اور کبھی کبھار کتنے مشکل ہوجاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سی آئی اے پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے انسداد دہشت گردی کی امریکی جنگ کے تحت کئی قیدیوں کو اغواء کیا اور یورپی ممالک کی جیلوں میں ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ اس بارے میں برطانیہ کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی کمیٹی نے تحقیقات کی ہیں۔ برطانوی اہلکاروں کے خیال میں کمیٹی کی رپورٹ سے واضح ہوگیا ہے کہ انسداد دہشت گردی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کافی اہم ہیں۔ کمیٹی کے سامنے ایم آئی سِکس کے سربراہ سر جان اسکارلیٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ عملی طور پر ممکن نہیں، نہ ہی اس کی ضرورت ہے، نہ ہی یہ قومی مفاد میں ہے کہ برطانوی ایجنسیاں امریکی کوششوں سے الگ ہوکر (دہشت گردی کے خلاف) اپنا کام کریں۔‘ رینڈیشن کی امریکی پالیسی سے برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لیے اخلاق کا مسئلہ اب صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہا جن کا انسانی حقوق کے معاملے میں ریکارڈ خراب رہا ہے، بلکہ اب یہ معمہ برطانیہ کے اپنے قریبی اتحادی ملک امریکہ سے بھی جڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ’مختلف قانونی ضوابط اور اخلاقی معیار‘ اپنائے جارہے ہیں۔ رینڈیشن کے واقعات گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل بھی ہوتے تھے لیکن تب برطانیہ ان سے کم ہی منسلک تھا۔ گیارہ ستمبر کے بعد رینڈیشن کے واقعات میں تیزی آئی جو کہ برطانوی ایجنسیوں پر دھیرے دھیرے واضح ہوا۔ برطانیہ کی بیرونی خفیہ ایجنسی ایم آئی سِکس کے ایک اہلکار کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں کے چند ماہ بعد ماحول میں ’افراتفری‘ تھی۔ داخلی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہ نے حالات کو یوں سمجھا: ’ہم (معلومات کے لیے) کافی جد و جہد کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گڑھے میں لڑائی ہو رہی ہو۔‘ پوری توجہ مزید حملے روکنے پر مرکوز تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کا برطانوی انٹیلیجنس فوری طور پر اندازہ نہ کرسکی۔ جب ایم آئی سِکس کے اہلکاروں کو ان کے امریکی ہم منصبوں کی جانب سے رینڈیشن کے نوٹس موصول ہوئی تو یہ سمجھا گیا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد شاید یہ امریکی لہجے میں ’سختی‘ ہے، پالیسی میں تبدیلی نہیں۔
سن 2002 میں رینڈیشن کے کچھ واقعات سامنے آنے کے بعد برطانوی انٹیلیجنس پر واضح ہونے لگا کہ اب امریکہ کیسے کام کر رہا ہے۔ امریکہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو عدالتی کارروائی کے لیے امریکہ نہیں لے جارہا تھا یا ان کے ملک واپس نہیں بھیج رہا تھا، بلکہ ایسے افراد کو مختلف ملکوں میں بھیجا جارہا تھا۔ ایم آئی فائیو اور ایم آئی سِکس کے لیے سن 2003 میں خالد شیخ محمد کی حراست کا معاملہ اہم ثابت ہوا اور نئے سوالات جنم لینے لگے۔ حراست کے بعد خالد شیخ محمد کو سی آئی اے کے ایک خفیہ مقام پر لے جایا گیا جہاں تفتیش کے لیے ان پر پانی میں ڈبونے جیسے تجربات کیے گئے جس کے تحت انسان یقین کرنے لگتا ہے کہ اب اس کی ہلاکت قریب ہے۔ سن 2004 سے ایم آئی فائیو اور ایم آئی سِکس نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ ان کے پاس ایسے اختیارات نہیں جن کے تحت ان سوالوں کا جواب ممکن ہو اور ان کے اختیارات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سن 2005 کے اوائل میں ایم آئی سِکس ایک کارروائی کے قریب تر تھی لیکن اسے اپنا مشن اس لیے ترک کرنا پڑا کیونکہ یہ ایجنسی مطمئن نہیں تھی کہ حراست میں لیے جانے والے شخص کو کہاں رکھا جائے گا اور اس کے ساتھ کیسا سلوک برتا جائے گا۔ بعض افراد کے بارے میں معلومات امریکہ کو اس یقین دہانی کے بعد فراہم کی گئیں کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی لیکن یہ افراد جب برطانیہ سے افریقہ پہنچے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا اور گوانتاموبے کی امریکی جیل میں منتقل کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا لیکن ’امریکہ کی جانب سے برطانیہ کے خدشات کا کوئی لحاظ نہیں‘ کیا گیا۔ امریکہ نے ایم آئی فائیو اور برطانوی حکومت کے احتجاج کو بھی نظرانداز کردیا۔ رپورٹ میں رینڈیشن کے ان واقعات پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے جن میں زیرحراست افراد کو برطانوی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے ذریعے لے جایا گیا۔ اس سے متعلق رپورٹ کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کی متعدد پروازیں برطانوی ہوائی اڈوں سے گزریں لیکن ایسے شواہد نہیں ہیں کہ ان میں قیدی بھی رہے ہوں تاہم ایسا ضرور ہے کہ مکمل تفصیلات کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکہ رینڈیشن کے معاملات پر برطانوی احتجاج کا نوٹس لیتا ہے تاہم اس طرح کے خدشات سے امریکی پالیسی متاثر نہیں ہوتی ہے۔ لہذا برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو کام کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا تاکہ خفیہ معلومات کا تبادلہ جاری رہے جو کہ برطانیہ کی سکیورٹی کے لیے ’اہم‘ ہے۔ |
اسی بارے میں افغان قیدی پر تشدد ،امریکی کو قید14 February, 2007 | آس پاس خفیہ پروازیں: یورپی ملکوں کی مذمت14 February, 2007 | آس پاس ویلری کی بش انتظامیہ پر تنقید16 March, 2007 | آس پاس بغداد: ایرانی سفارت کار کا اغوا06 February, 2007 | آس پاس ’پاکستانیوں کو اغوا کیا گیا تھا‘12 May, 2006 | آس پاس القاعدہ کی اعانت، ضمانت مسترد02 June, 2007 | آس پاس پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر01 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||