BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 June, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برٹش ائرپورٹس کا استعمال نہیں‘
’امریکہ نے برطانیہ کے راستے قیدیوں کی منتقلی کی درخواست کی تھی‘
برطانیہ میں اعلٰی پولیس حکام کی انکوائری کے مطابق اس بات کوئی’ثبوت‘ نہیں ملا کہ برطانوی ہوائی اڈوں کو سی آئی اے نے مشتبہ دہشتگروں کی منتقلی کے حوالے سے اپنی پروازوں کے لیے استعمال کیا۔

ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسرز کی تحقیقاتی رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات پر نظر رکھنے والی تنظیم کونسل آف یورپ نے کہا تھا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ سی آئی اے یورپ میں خفیہ جیلیں چلاتی تھی۔

کونسل آف یورپ کی رپورٹ کے مطابق’یورپی ممالک خصوصاً رومانیہ اور پولینڈ میں 2003 سے 2005 تک‘ جیلوں کو مبینہ دہشتگردوں سے تفتیش کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسرز یا ’اچپو‘ کے لیے نومبر سنہ 2005 میں گریٹر مانچسٹر کے چیف کانسٹیبل مائیکل ٹاڈ نے لبرٹی نامی گروپ کی جانب سے خفیہ جیلوں کے الزامات کی تفتیش شروع کی تھی۔

اب ’اچپو‘ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ خفیہ جیلوں کا معاملہ حالیہ مہینوں میں ذرائع ابلاغ اور سرکاری رپورٹوں میں زور شور سے بیان کیا گیا۔ اب مسٹر ٹاڈ نے اس حوالے سے موجود تمام معلومات کا معائنہ کر لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لبرٹی گروپ کے الزامات ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ اس بات کو بھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سی آئی اے نے برطانوی ہوائی اڈوں کو لوگوں کو تشدد کی غرض سے دیگر ممالک منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا‘۔

’یورپی جیلوں کو مبینہ دہشتگردوں سے تفتیش کے لیے استعمال کیا گیا‘

خفیہ جیلوں کے حوالے سے الزامات لگانے والی لبرٹی نامی تنظیم کی مس چکرورتی کے مطابق سوال یہ ہے کہ مائیکل ٹاڈ نے کتنی باریک بینی سے الزامات کی تفتیش کی۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کے الزامات ’معتبر تفتیش‘ پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ جب سیاستدان بات کو توڑ موڑ کر بیان کریں تو یہ مایوس کن ہوتا ہے لیکن اگر پولیس اس کام پر لگ جائے تو یہ بہت خطرناک بات ہے‘۔

یاد رہے کہ 2005 میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بجن ہل، برمنگھم، بورن ماؤتھ، برائز نارٹن، فارنبورو، گیٹ وک، ہیتھرو، سٹینسٹڈ اور لوٹن کے علاوہ کئی اور برطانوی ہوائی اڈوں پر سی آئی اے کے اپنے یا چارٹر شدہ طیاروں کو اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔

برطانوی وزارتِ خارجہ اس سے قبل کہہ چکی ہے کہ امریکہ نے 1998 میں چار مرتبہ برطانیہ کے راستے قیدیوں کی منتقلی کی درخواست کی تھی جن میں سے دو بار یہ اجازت دی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد