سی آئی اے جیلوں کی’تصدیق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر نے کہا کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں گرفتار ہونے والوں کی تفتیش کرنے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ میں خفیہ عقوبت خانے قائم کر رکھے تھے۔ سوئٹزر لینڈ کے سینیٹر ڈک مارٹی یورپ کے انسانی گروہوں کی طرف سے سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں کی تحقیقات کرتے رہے ہیں۔ مارٹی نے اپنی رپورٹ نے کہا ہے کہ یورپ اور خاص طور پر رومانیہ اور پولینڈ میں سن دو ہزار تین اور سن دو ہزار پانچ تک سی آئی اے کے خفیہ قید خانے موجود نہیں تھے۔ ان دونوں ملکوں کی حکومت نے اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے یورپی ملکوں نے قومی مفاد کے نام پر ان کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے مرحلے میں سامنے آئی ہے جب اٹلی میں سی آئی اے کی ان کارروائیوں پر مقدمہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس مقدمے میں سی آئی اے کے پچیس اہلکار اور امریکی فضائیہ کے ایک کرنل پر ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں سی آئی اے جیلوں کی’تصدیق‘08 June, 2007 | آس پاس سی آئی اے اغوا، اٹلی میں سماعت 08 June, 2007 | آس پاس ’امریکہ خفیہ جیلوں کو ختم کرے‘07 June, 2007 | آس پاس ’سکوٹر‘ لبّی کو ڈھائی برس قید05 June, 2007 | آس پاس امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟02 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||