’سکوٹر‘ لبّی کو ڈھائی برس قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدالت نے نائب صدر ڈک چینی کے سابق چیف آف سٹاف لوئیس’سکوٹر‘ لبّی کو ڈھائی برس قید کی سزا سنا دی ہے تاہم وہ آئندہ ہفتے اپنی اپیل کی سماعت تک آزاد رہیں گے۔ سکوٹر لبّی کو ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر جرمانہ بھی کیا گیا ہے اور انہیں جیل سے نکلنے کے بعد دو برس پروبیشن پر گزارنے ہوں گے۔ اس سال مارچ میں لبّی کو سی آئی اے کی ایک ایجنٹ کی شناخت افشا کرنے کے معاملے کے حوالے سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور عدالت سے غلط بیانی کا مرتکب پایا گیا تھا۔ اگرچہ اس معاملے میں لبّی کو پچیس برس تک قید ہو سکتی تھی تاہم استغاثہ نے تین برس قید کی سزا کی درخواست کی تھی۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج ریگی بی والٹن کا کہنا ہے کہ لبّی کو قصوروار ثابت کرنے کے لیے دیے گئے ثبوت کافی ہیں۔ جج نے کہا کہ’وہ لوگ جو اس قسم کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں جہاں ان کے ہاتھ میں قوم کی فلاح اور حفاظت کی ذمہ داری ہوتی ہے، تو ان کی یہ خصوصی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسا کچھ نہ کریں جس سے مسائل کھڑے ہوں‘۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے سکوٹر لبّی کو سزا سنائے جانے کے بعد کہا ہے کہ’صدر بش کو ان کے اہلِ خانہ خصوصاً اہلیہ اور بچوں سے ہمدردی ہے‘۔ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی تھیں کہ صدر بش لبّی کو معاف کردیں گے تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا۔ لوئیس لبّی اسّی کی دہائی میں ریگن دور میں ایران کنٹرا سکینڈل کے بعد سزا پانے والے وائٹ ہاؤس کے اعلٰی ترین عہدیدار ہیں تاہم وہ خود پر عائد الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے جج سے اپنی حتمی اپیل میں بھی کہا’ کہ مجھے امید ہے کہ عدالت جیوری کے فیصلے کے ساتھ ساتھ میری ساری زندگی کو بھی مدِ نظر رکھے گی‘۔ سی آئی اے ایجنٹ ویلری پلام کی شناخت 2003 میں اس وقت عیاں کر دی گئی تھی جب ان کے شوہر اور سابق امریکی سفیر نے عراق جنگ کے حوالے سے بش انتظامیہ پر تنقید کی تھی۔ | اسی بارے میں ویلری کی بش انتظامیہ پر تنقید16 March, 2007 | آس پاس سکوٹر لبی جھوٹ بولنے کا مرتکب06 March, 2007 | آس پاس ڈک چینی کو مقدمہ کا سامنا 14 July, 2006 | آس پاس صدر جارج بش کی نئی مشکلیں28 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||