صدر جارج بش کی نئی مشکلیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب صدر ڈک چینی کے چیف آف سٹاف لیوئس لبی پر فردِ جرم کا عائد ہونا اور ان کا استعفے سے صدر جارج بش کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس واقعے سے اس طرح کے اہم سوال جنم لے رہے ہیں کہ آخر صدر بش کی انتظامیہ نے عراق کے خلاف جنگ کو کس طرح جائز قرار دیا۔ یہ صورتِ حال سی آئی اے کی ایجنٹ کے نام کےغیر قانونی طور پر ظاہر کیے جانے کے حوالے سے نائب صدر ڈک چینی کے ممکنہ کرادار کی جانچ پڑتال جیسے معاملات کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔ بعض لوگ کہیں گے کہ بش انتظامیہ میں کہیں نہ کہیں کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ اس معاملے سے جارج بش کے ان مطالبات پر بھی زد پڑتی ہے جو بطور صدارتی امیدوار انہوں نے سابق صدر کلنٹن کے دورِ اقتدار کے آخری حصے میں جب انہیں مواخذے کی تحریک کا سامنا تھا، یہ کہتے ہوئے کیے تھے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی عزت و ساکھ بحال کریں گے۔ صدر بش کے سب سے اہم معتمد کارل روو پر کسی قسم کی فردِ جرم عائد نہیں ہوئی لیکن ان کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اگر ان پر بھی فردِ جرم عائد ہو جاتی تو صدر بش کے لیے بے پناہ سیاسی نقصان ہوتا۔ لبی پر فردِ جرم لگنا اور ان کا استعفیٰ وائٹ ہاؤس کے لیے بہت تباہ کن ہو سکتا ہے اور صدر بش کو معاملے کو سنبھالنے میں کافی دشواری ہوگی۔ لبی ڈک چینی کے چیف آف سٹاف ہی نہیں بلکہ اس ٹیم کا حصہ رہے ہیں جس نے عراق کے خلاف جنگ کی پالیسی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لبی کے احباب ’سکوٹر‘ کہتے ہیں چونکہ ان کے والد بچپن میں انہیں اسی نام سے پکارا کرتے تھے۔ وہ ڈک چینی کے اتنے ہی قریب ہیں جتنے کارل صدر بش کے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لبی کا کام بین الاقوامی معاملات کو دیکھنا ہے جبکہ کارل ملکی سیاست پر نظر رکھتے ہیں۔ فروری دو ہزار دو میں جوزف ولسن کو جو امریکہ کے سابق سفیر ہیں، اس بات کی تحقیقات کے لیے نیجر بھیجا گیا کہ کیا واقعی عراق نے یورینیم خریدنے کی کوشش کی ہے۔ برطانیہ کو اس بات کا یقین تھا اور ٹونی بلیئر کی حکومت نے جنگِ عراق سے پہلے جو دستاویز تیار کیے تھے ان میں اس کا ذکر تھا۔ خود صدر بش نے جنوری دو ہزار تین میں اپنے ایک اہم خطاب میں عراق کے یورنیم خریدنے کا ذکر کیا تھا۔ لیکن سابق امریکی سفیر کو اس بات کا یقین نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اس حوالے سے مہیا کیے جانے والے دستاویزات جعلی ہیں۔ انہوں نے جنگِ عراق کے بعد اسی موضوع پر نیویارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل بھی لکھ دیا۔ اس کے آٹھ روز بعد ایک نامی کالم نگار نے لکھا کہ ولسن کی اہلیہ سی آئی اے کی ایجنٹ ہیں جن کا کام جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا تجزیہ کرنا ہے۔کالم نگار نے بش انتظامیہ کے اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ولسن کی اہلیہ نے ہی نیجر دورے کا مشورہ دیا تھا۔ چونکہ سی آئی اے کے ایجنٹ کا نام ظاہر کرنا غیر قانونی ہے لہذا تلاش شروع ہوگئی کہ بش انتظامیہ کا کونسا اہلکار ہے جس نے کالم نگار کو یہ سب کچھ بتایا۔ چنانچہ لبی اور کارل دونوں ہی لوگوں کی نظروں میں آگئے۔ خود ولسن کا اشارہ بھی کارل ہی کی طرف تھا۔ لیکن اب پتہ چلا ہے کہ یہ کام کارل نے نہیں کیا۔ | اسی بارے میں سربراہ کے بعد نائب سربراہ بھی04 June, 2004 | آس پاس پینٹاگون ایک اور سکینڈل کی زد میں29 August, 2004 | آس پاس گوس سی آئی اے کے نئے سربراہ23 September, 2004 | آس پاس امریکی صحافی کو رہا کر دیا گیا30 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||