ویلری کی بش انتظامیہ پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی سابق ایجنٹ ویلری پام ولسن نے بش انتظامیہ کے سینیئر حکام کی جانب سے ان کی شناخت ظاہر کیے جانے کو لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قرار دیا ہے۔ امریکی حکومت کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کرنے والے اس سکینڈل کے حوالے سے یہ ویلری کا یہ پہلا عوامی بیان ہے۔ انہوں نے کہا ’ بدقسمتی سے میری شناخت ظاہر کرنے والے انتظامی افسران تھے‘۔ ویلری کا کہنا تھا کہ انہیں ہمیشہ سے یہ خدشہ تھا کہ ان کی شناخت کے بارے میں غیر ملکی حکومتیں جان سکتی ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ کام ان کی اپنی حکومت کرے گی۔ شناخت سامنے لانے کے اس معاملے میں تاحال کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے سابق اعلیٰ اہلکار لوئیس سکوٹر لبی کو اس سلسلے میں تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے اور حلف لیکر دروغ گوئی سے کام لینے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ امریکی نائب صدر ڈک چینی کے سابق چیف آف سٹاف لوئیس سکوٹر لبی کو اس مقدمے میں زیادہ سےزیادہ پچیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ سکوٹر لبی کو اس سال جون میں سزا سنائی جائے گی۔ ویلری کے مطابق ان شناخت 2003 میں ظاہر کی گئی تاکہ ان کے شوہر کو عراق جنگ پر تنقید کرنے کی پاداش میں بدنام کیا جا سکے۔ ویلری پام کے شوہر سابق امریکی سفیر جوزف ولسن نے اپنے ایک اخباری کالم میں لکھا تھا کہ امریکی حکمرانوں نےعراق پر حملے کے جواز کے لیے انٹلیجنس معلومات کو توڑ موڑ کر پیش کیا تھا۔ اس کالم کے سامنے آنے کے بعد ہی حکومتی ذرائع نے ویلری کی بطور سی آئی اے ایجنٹ شناخت کے بارے میں امریکی ذرائع ابلاغ کو مطلع کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں سکوٹر لبی جھوٹ بولنے کا مرتکب06 March, 2007 | آس پاس ڈک چینی کو مقدمہ کا سامنا 14 July, 2006 | آس پاس ’بُش پر معلومات عام کرنےکا الزام‘07 April, 2006 | آس پاس صدر بش کی دوستی کا امتحان20 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||