سکوٹر لبی جھوٹ بولنے کا مرتکب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں وائٹ ہاوس کے سابق اعلیٰ اہلکار لوئیس سکوٹر لبی کو ایک تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے اور حلف لیکر دروغ گوئی سے کام لینے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ امریکی نائب صدر ڈک چینی کے سابق چیف آف سٹاف لوئیس سکوٹر لبی کو اس مقدمے میں زیادہ سےزیادہ پچیس سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سکوٹر لبی کو اس سال جون میں سزا سنائی جائے گی۔ سکوٹر لبی کو ایف بی آئی اور گرینڈ جیوری کے سامنے حلف لینے کے باوجود سی آئی اے کی اہلکار ویلری پام کی شناخت کے بارے میں جھوٹ بولنے کا مرتکب پایا گیا ہے۔ عدالت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد ڈک چینی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں لبی کے گھر والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا۔ انہوں نے اس بیان میں شدید مایوسی کا بھی اظہار کیا۔ ویلری پام جوایک سابق امریکی سفیر کی بیوی اور سی آئی اے کی خفیہ ایجنٹ تھیں، انہوں نے الزام لگایا تھا کہ نائب صدر ڈک چینی، ان کے مشیر لوئیس لبی اور وائٹ ہاؤس کے دوسرے لوگوں نےان کی سی آئی اے کی شناخت کو عام کر کے ان کے کیریئر کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر لبی کو پچیس سال قید تک کا سامنا ہے اور ان کے وکلا نے اپیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ استغاثے کے وکیل پیٹرک فٹز جیرالڈ کا کہنا ہے کہ سچائی ہمارے نظام عدل کی بیناد ہے اور ہم حلف لیکر دروغ گوئی اور عدالت کی راہ میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ اس طرح نظام عدل کام نہیں کر سکے گا۔ پیٹرک فٹز جیرالڈ نے کہا کہ اگر ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو یہ وکیل استغاثہ کا فرض ہے کہ وہ ایسے فرد کو سامنےلائے۔ اور اگر ایسے معاملے میں کوئی اعلیٰ سرکاری اہل کار ملوث ہو تو یہ قطعی قابل قبول نہیں | اسی بارے میں ’بُش پر معلومات عام کرنےکا الزام‘07 April, 2006 | آس پاس ڈک چینی کو مقدمہ کا سامنا 14 July, 2006 | آس پاس آزادانہ تجارت یا امریکی تسلط 15 June, 2006 | آس پاس برطانیہ القاعدہ کے خطرے سے آگاہ تھا 16 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||