برطانیہ القاعدہ کے خطرے سے آگاہ تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ تنظیم میں شامل ایک برطانوی جاسوس نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی خفیہ اداروں کو انیس سو نوے کے وسط میں القاعدہ کی طرف سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن وہ اس خطرے سے نبٹنے کے لیئے بروقت اقدامات کرنےمیں ناکام رہے۔ القاعدہ تنظیم میں شامل اس برطانوی جاسوس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے برطانوی خفیہ اداروں کو بتا دیا تھا کہ القاعدہ ان کو حاصل معلومات سے کہیں زیادہ منظم تنظیم ہے۔ عمر مصری کے فرضی نام سے القاعدہ میں شامل اس جاسوس نے القاعدہ تنظیم کے افغانستان میں قائم تربیتی مراکز میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی اور وہ برطانوی خفیہ اداروں کے علاوہ فرانس کو بھی اطلاعات فراہم کرتے رہے۔ عمر مصری کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ایک اہم رکن نے امریکہ کو عراق پر حملہ کے لیئے اکسانے کے لیئے غلط معلومات فراہم کئیں۔ برطانوی جاسوس نے کہا کہ القاعدہ کے رکن ابن شیخ اللبی سے سن دوہزار ایک میں جب امریکی حکام نے تفتیش کی تو انہوں نے القاعدہ اور عراقی حکومت کے رابطوں کے بارے میں انہیں فرضی کہانیاں سنائیں۔ سیکورٹی کے امور پر بی بی سی کے نامہ نگار گارڈن کوریرا کا کہنا ہے کہ عمر مصری کے انکشافات سے انیس سو نوئے کی دہائی میں القاعدہ کے ابھرنے کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی حکام الجیریہ کی طرف سے ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھے جب کے برطانوی حکام کو برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ لاحق تھا۔ عمر مصری کی طرف سے فراہم کردہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ فرانسیسی اور برطانوی خفیہ ادارے القاعدہ کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خطرے کا ادراک نہیں کر سکے۔ عمر مصری نے کیمیائی ہتھیاروں کے تجربے کی بھی وضاحت کی اور دعوی کیا کہ ابو حمزا المصری کو لندن میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی تھی۔ اس جاسوس نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم میں اعتبار حاصل کرنے کے لیئے فرانسیسی اور برطانوی خفیہ اداروں کی طرف سے فراہم کردہ رقم انہوں نے القاعدہ کے رہنماؤں کو دی تاہم ان کو یہ علم نہیں کہ یہ رقم کس مصرف میں لائی گئی۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ کا مرکز وزیرستان تھا‘02 October, 2006 | آس پاس القاعدہ کے امریکی رکن پر مقدمہ12 October, 2006 | آس پاس نئی القاعدہ کا نشانہ برطانیہ: حکام 19 October, 2006 | آس پاس القاعدہ ایک گلوبل تحریک ہے: فیصل06 November, 2006 | آس پاس ایم فائیو کا انتباہ حقیقی ہے: بلیر10 November, 2006 | آس پاس برطانیہ: خفیہ ادارے کا انتباہ10 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||