آزادانہ تجارت یا امریکی تسلط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی تجارت اور فنانس کی امریکی ماہر انتونیا جوہاز نے ’دی بش ایجنڈا ۔ دنیا پر یلغار۔ ایک وقت میں ایک معیشت‘ کے عنوان سے تقریبا پونے چار سو صفحوں پر مشتمل اس کتاب میں صدر جارج بش کی انتظامیہ کے بڑی کارپوریشنوں سے گہرے روابط اور ان کے مفادات کے فروغ کے لیئے اٹھائے جانے والے معاشی اور فوجی اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر جارج بش نے جنگ اور آزادانہ تجارت کو دنیا کے تمام مسائل کے حل کی حکمت عملی کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں وہ صدر بش کے خیالات کا حوالہ دیتی ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ’زیادہ دولت کے حصول کا یقینی راستہ زیادہ تجارت ہے۔۔۔ہمارا آزادانہ تجارت کا ایجنڈا زیادہ آزاد دنیا کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔‘ مصنفہ کا کہنا ہے کہ بش ایجنڈے کا مقصد امریکی سلطنت کی توسیع ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ صدر بش سینئر کے وقت بلکہ اس سے پہلے سے، یہ ایجنڈا تیار کیا جارہا تھا جس کو بنانےوالوں میں سینئر امریکی اہلکار ڈک چینی، ڈونلڈ رمسفیلڈ، پال وولفو ویز، زلمے خلیل زاد، رابرٹ زولیک اور سکوٹر لبی کے نام قابل ذکر ہیں۔ انتونیا جوہاز نے ان تمام دستاویزات کی تفصیل بتائی ہے جو موجودہ امریکی پالیسی کو تشکیل دینے سے پہلے تیارکیے گئے تھے جیسے انیس سو بانوے میں تیار کیا گیا ’ڈیفنس پلاننگ گائیڈ لائن (یا ڈی پی جی)‘، سنہ دو ہزار میں تیار کی گئی دستاویز’امریکہ کے دفاع کی تشکیل نو، حکمت عملی، وسائل اور نئی صدی‘، سنہ دو ہزار دو میں تیارکی گئی دستاویز ’ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قومت سلامتی کی حکمت عملی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ایجنڈے کا بظاہر مقصد ایک ’آزاد اور محفوظ تر دنیا‘ کا قیام ہے لیکن اس کا اصل مقصد ایک ایسی امریکی سلطنت کا قیام ہے جس کی بنیاد کثیر قومی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور امریکہ کی عدیم المثال فوجی طاقت ہوگی۔
مصنفہ کا کہنا ہے کہ صدر بش کی آزادانہ تجارت کی پالیسی کی ابتدا تو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بش جونیئر سے پہلے امریکی صدور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک (ورلڈ بینک) جیسے مالیاتی اداروں کے ذریعے اپنی عالمی معاشی پالیسی کو آگے بڑھاتے تھے لیکن بش جونیئر نے اس حکمت عملی میں فوجی طاقت کے استعمال کا عنصر بھی شامل کردیا۔ انتونیا جوہاز کا کہنا ہے کہ صدر بش کے تیل اورگیس کی کثیر قومی کمپنیوں سے مفادات وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سنہ دو ہزار کے امریکہ کے صدارتی الیکشن میں تیل اور گیس کمپنیوں نے صدر بش اور ڈک چینی کی انتخابی مہم میں ان کےمد مقابل کی نسبت انہیں تیرہ گنا زیادہ فنڈز اور سنہ دو ہزار چار کی مہم میں نو گنا زیادہ عطیے دیے۔ مصنفہ کہتی ہیں کہ تیل کی کمپنیاں جیسے ہیلیبرٹن اور شیورون، دنیا کی سب سے بڑی انجینئرنگ کمپنی بیختیل اور طیارے بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن صدر بش کے ایجنڈے کی سب سے بڑی اتحادی ہیں۔ وہ حالیہ برسوں میں ان سب کمپنیوں کے منافع میں زبردست اضافے کے اعداد وشمار پیش کرتی ہیں جو چونکا دینے والے ہیں۔ وہ صدر بش کی انتظامیہ میں بڑے بڑے عہدوں پر براجمان اہلکاروں کی سوانح بتاتی ہیں جو ان چار بڑی کمپنیوں کے عہدیداروں کے طور پر بھی کام کرتے رہے اور ان کے ان کارپوریشنوں سے قریبی تعلقات اور مفادات وابستہ ہیں۔ خود صدر بش ایک تیل کی کمپنی کے ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ انتونیا جوہاز کا کہنا ہے کہ عراق کی جنگ بش ایجنڈے پر عمل درآمد کی ایک بھرپور شکل ہے۔ انہوں نے عراق میں امریکہ کے قبضہ کے بعد چار بڑی امریکی کارپوریشنوں کو پہنچنے والے زبردست معاشی فوائد کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ مصنفہ کا کہنا ہےکہ صدر بش کا دور تیل اور گیس کمپنیوں کے لیے ایک بڑی نعمت بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بش کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کی انتیس بڑی تیل کمپنیوں نے سنہ دو ہزار تین میں تینتالیس ارب ڈالر کا کثیر منافع کمایا اور سنہ دو ہزار چار میں اڑسٹھ ارب ڈالر کا منافع سمیٹا۔ وہ کہتی ہیں کہ تیل سے ہونے والا منافع سنہ دو ہزار پانچ میں اتنا بڑھ گیا تھا کہ تین سب سے بڑی امریکی کمپنیوں ایکسون موبل، شیورون اور کونوکو فلپس نے مجموعی طور پر چونسٹھ ارب ڈالر منافع میں کمائے۔ انتونیا جوہاز کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی کے تیل پر اپنی کارپوریشنوں کے کنٹرول، وہاں کی مارکیٹوں میں امریکی مصنوعات اورکمپنیوں کی خدمات کے فروغ کے لیے مشرق وسطی میں میفٹا (مڈل ایسٹ فری ٹریڈ ایریا) کے نام سے ایک آزادانہ تجارت کا زون قائم کررہا ہے۔ امریکہ اس آزادانہ تجارت کے علاقے میں ایران کی شمولیت بھی چاہتا ہے تاکہ اس کے وسائل بھی بڑی کارپوریشنوں کے تصرف میں آسکیں۔ وہ اس عمل کو کارپوریٹ عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کا نام دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بش دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے ذریعے درحقیقت کارپوریٹ عالمگیریت کو فروغ دے رہے ہیں اور آزادانہ تجارت بھی اس جنگ کا ایک ہتھیار ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ پاکس امریکانا کی حکمت عملی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ زبردست اور وسیع عسکری اور معاشی عالمی غلبہ حاصل کرے جس سے دنیا میں امن قائم رکھا جاسکے گا۔ انتونیو جوہاز نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے دنیا کے کم ترقی یافتہ ملکوں زیمبیا، جنوبی افریقہ، بولیویا، ارجنٹینا، نائجیریا، لبنان اور کمیونسٹ دور کے بعد کے روس میں ہونے والی تباہی اور معاشی بدحالی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے پرچون کی سپلائی چین وال مارٹ کی کارروائیوں کی تفصیل بھی بتائی ہے کہ کس طرح وہ غریب ملکوں میں کم سے کم اجرت دے کر سستامال خریدتی ہے اور دوسری طرف خود اس کے اربوں ڈالر کے منافع آسمان کو چھوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے عالمی تجارت کےمعاہدہ ڈبلیو ٹی او میں امریکی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ رابرٹ زولمیک کے کردار کی تفصیل بتائی ہے کہ کس طرح انہوں نے غریب ملکوں کو ترقیاتی امداد بند کرنے اور قرضوں میں رعائیتیں بند کردینے کی دھمکیاں دے کر دوحہ مذاکرات کے لیئے ایسی شرائط تسلیم کروائیں جو ان ملکوں کے مفادات کے خلاف تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان ڈبلیو ٹی او مذاکرات میں ترقی پذیر ملکوں کے مفادات کا بڑا علمبردار تھا اور قائدانہ کردار ادا کیا کرتا تھا لیکن امریکہ نے دوحہ کے مذاکرات سے پہلے اسے بڑی مقدار میں قرضے اور امداد دی جس کے بعد پاکستان نے خاموشی اختیار کرلی جبکہ نائجیریا نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ وہ رابرٹ زولیک کے مضامین کا حوالہ دیتی ہیں جس میں انہوں نے کاروپرویٹ عالمگیریت کو امریکہ کی قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا تھا۔ آخری باب میں انتونیو نے کارپوریٹ عالمگیریت کے متبادل کے طور پر نئے عالمی معاشی نظام کے قیام کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غریب ملکوں کے تمام قرضے معاف کیے جائیں، کثیر قومی کمپنیوں کو مقامی آبادیوں کے ساتھ ذمہ دارانہ سلوک کرنے کا پابند کرنے کے قواعد بنائے جائیں، امریکہ عراق سے فوجیں واپس بلائے اور جمہوری طریقے سے عالمی امداد تقسیم کرنے کے ادارے قائم کیے جائیں۔ حال میں امریکہ کے دو مصنفین تھامس فریڈ مین (دنیا چپٹی ہے) اور ایلون ٹوفلر (انقلابی دولت) نے عالمگیریت کی زبردست تعریف میں کتابیں لکھی ہیں جن میں اس کی برکات کا تذکرہ ہے لیکن اس کے منفی پہلؤوں پر بات نہیں کی گئی۔ انتونیا جوہاز کی کتاب اس کمی کو پورا کردیتی ہے اور نام نہاد نئی عالمگیری دنیا کی مکمل تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ انتونیا جوہاز کیلی فورنیا میں مقیم سکالر ہیں۔ انہوں نے کانگریشنل معاون اور انٹرنیشنل فورم برائے عالمگیریت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ ان کے مضامین لانجس اینجلس ٹائمز اور میامی ہیرالڈ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ |
اسی بارے میں اسامہ کی تعریف سے کتاب بکنے لگی23 January, 2006 | پاکستان بش کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان نصابی کتاب میں جارج بش پر نظم01 December, 2005 | پاکستان لاہور میں مقامی عالمی کتاب میلہ03 March, 2005 | پاکستان ڈاکٹر قدیرخان پر نئی کتاب 28 October, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||