’بُش پر معلومات عام کرنےکا الزام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں جاری ہونے والی کچھ عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر جارج بُش نے وائٹ ہاؤس کے سابق اعلیٰ اہلکار کو عراق کے بارے میں خفیہ معلومات عام کرنے کے لیے کہا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے سابق اہلکار لوئس ’سکوٹر‘ لبی کے بیان کے مطابق ’صدر بُش نے عراق پر حملے کو درست ثابت کرنے کے لیے خفیہ معلومات عام کرنے کی اجازت دی تھی‘۔ لبی پر خفیہ معلومات عام کرنے کا الزام ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت پر تبصرہ نہیں کیا۔ لبی کے وکیل نے بھی صدر بُش پر قانون توڑنے کا الزام نہیں لگایا لیکن کہا گیا ہے کہ صدر کو خفیہ قرار دی جانے والی معلومات کو راز میں رکھے جانے کی پابندی ختم کرنے کا اختیار ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق لبی نے کہا ہے کہ انہیں نائب صدر ڈک چینی نے کہا تھا کہ ایک رپورٹر کو یہ بتا دیا جائے کہ ’عراق یورینیم کے حصول کے لیے بہت زور لگا رہا تھا‘۔ اس سے قبل ایک سابق سفارتکار جوزف ولسن نے جولائی دو ہزار تین میں اخبار نیو یارک ٹائمز میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے یورینم کےحصول کی کوششوں کے لیے عراق کے سابق صدر صدام حسین کی کوششوں کے دعوے پر شک کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس کے لبی نے مبینہ طور پر بدھ کو عدالت میں داخل کی گئیں دستاویزات میں کہا ہے کہ نائب صدر ڈک چینی نے انہیں نیو یارک ٹائمز کے ایک رپورٹر کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا تھا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق صدر بُش نے نائب صدر کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کے مطابق صدر جارج بُش ایک بار پھر ڈیموکریٹس میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیےلڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی صدر کہہ چکے ہیں ہیں کہ وہ اس طرح معلومات عام کرنے کے حق میں نہیں۔ نامہ نگار نے کہا کہ لبی کے دعوے کا اصل مطلب یہ ہے کہ ان کے سابق باس اور دوست جھوٹ بولتے ہیں۔ | اسی بارے میں لبی: الزام، استعفیٰ، سزا کا خطرہ28 October, 2005 | پاکستان خدمت جاری رکھوں گا: صدر بش 29 October, 2005 | پاکستان ’میں سچ جاننے کی مستحق ہوں‘07 August, 2005 | آس پاس ہم نہیں، وائٹ ہاؤس جھوٹا: صدام22 December, 2005 | آس پاس واشنگٹن میں جنگ مخالف ریلی24 September, 2005 | آس پاس عراق میں امریکی فوج کا پروپیگینڈا02 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||