خدمت جاری رکھوں گا: صدر بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ان کے مشیر پر پر جھوٹ کا الزام لگنے کی باوجود وہ عوام کی یکسوئی کے ساتھ خدمت کرتے رہیں گے۔ سی آئی اے کے ایجٹنٹ کا نام ظاہر کیے جانے کے بارے میں جاری تحقیقات میں نائب صدر ڈک چینی کے چیف آف سٹاف لیوس لبی پر غلط بیانی کرنے اور انصاف کی راہ میں روکاٹ ڈالنے کا باضابط الزام عائد کیا گیا ہے۔ جارج بش نے کہا کہ ان کو خبر سے دکھ ہوا ہے لیکن وہ امریکیوں کے تحفظ کے لیے اپنی انتھک کوشش جاری رکھیں گے۔ سپیشل پراسیکیوٹر پیٹرک فزجیرالڈ نے نائب صدر ڈک چینی کے چیف آف سٹاف لیوس لبی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے سی آئی اے کی ایک خفیہ ایجنٹ ولیری پلام کا نام، جن کے شوہر نے عراق پر حملے کی مخالفت کی تھی، اخبار نویسوں کو بتا دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ خاتون رپوٹر جس نے سی آئی اے کے ایجنٹ کے بارے میں خبر شائع کی تھی ، دو مہینوں سے زیادہ جیل میں رہ چکی ہے۔ ڈک چینی کے مشیر پر لگنے والے پانچ الزام اگر ثابت ہو گئے تو ان کو تیس سال قید کی سزا کے علاوہ دس لاکھ ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔ لیوئس لبی پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفٰی دے چکے ہیں ۔ تاہم صدر بش نے کہا ہے کہ امریکی قانون کے مطابق جب تک عدالت میں الزام ثابت نہ جائے ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ صدر بش کے مشیر کارل رو بظاہر فوری طور پر ان الزامات کا سامنا کرنے سے بچ گئے ہیں لیکن تحقیات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ لیوس لبی پر الزام کا عائد کیا جانا صدر بش کے لیے ایک بڑی سیاسی شرمندگی ہے جو ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ لیوس لبی پر مقدمہ چلائے جانے کے دوران صدر بش کی سیاسی ساکھ مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ | اسی بارے میں ’باخبر‘ ذریعہ نہ بتانے پر صحافی قید07 July, 2005 | آس پاس صدر بش کی دوستی کا امتحان20 July, 2005 | آس پاس امریکی صحافی کو رہا کر دیا گیا30 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||