لبی: الزام، استعفیٰ، سزا کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش کے ایک معاونِ خصوصی کو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹ کی شناخت ظاہر کرنے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں غلط بیانی کرنے اور انصاف کی راہ میں روکاٹ ڈالنے کا باضابط الزام عائد کردیا گیا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد لیوئس لبی نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے۔ تاہم صدر بش نے کہا ہے کہ امریکی قانون کے مطابق جب تک عدالت میں الزام ثابت نہ جائے ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی نائب صدر ڈک چینی کے چیف آف اسٹاف لیوس لبی پر فیڈرل جیوری کے سامنے بھی غلط بیانی کا الزام عائد کیا ہے۔ صدر کے مشیر کارل رو بظاہر فوری طور پر ان الزامات کا سامنا کرنے سے بچ گئے ہیں۔ سی آئی اے کی ایجنٹ ولیری پلام کا نام، جن کے شوہر نے عراق پر حملے کی مخالفت کی تھی نام ایک اخبار نویس کو بتا دیا گیا تھا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ لیوس لبی پر الزام کا عائد کیا جانا صدر بش کے لیے ایک بڑی سیاسی شرمندگی ہے جو ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ لیوس لبی پر مقدمہ چلائے جانے کے دوران صدر بش کی سیاسی سااکھ مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ | اسی بارے میں ’باخبر‘ ذریعہ نہ بتانے پر صحافی قید07 July, 2005 | آس پاس صدر بش کی دوستی کا امتحان20 July, 2005 | آس پاس امریکی صحافی کو رہا کر دیا گیا30 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||