BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ خفیہ جیلوں کو ختم کرے‘
ہتھکڑیاں
امریکہ دہشتگردی کے ملزموں کو خفیہ جیلوں میں رکھنے کا اعتراف کر چکا ہے
حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے ایک گروپ نے انتالیس افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی یا سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں رکھے گئے تھے اور اب ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں معلوم۔

گروپ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لیے قائم خفیہ جیلوں کو ختم کیا جائے۔

امریکی صدر بش نے گزشتہ سال اعتراف کیا تھا کہ ایسی جیلیں موجود ہیں مگر ان میں اب کوئی قیدی نہیں ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی حکام، ذرائع ابلاغ اور قید میں رہنے والے بعض افراد سے انٹرویوز کے بعد اپنی فہرست مرتب کی ہے۔

اس گروپ میں شامل ایک تنظیم ’رِپریِو‘ کے لیگل ڈایریکٹر کلائیو سٹیفرڈ کا کہنا ہے کہ یہ وقت ہے کہ امریکہ اپنی صفائی پیش کرے۔

انہوں نے کہا: ’یہ انتالیس افراد کئی برسوں سے لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں ملنے والے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ لوگ کبھی نہ کبھی امریکی قید میں تھے۔ یہ لوگ کہاں گئے، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟‘

تاہم سی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا محکمہ امریکی قانون کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرکے کئی منصوبوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو پاکستان، ایران، عراق، سوڈان اور صومالیہ سے گرفتار کرنے کے بعد خصوصی پروازوں کے ذریعے امریکہ کی خفیہ جیلوں میں لے جایا گیا تھا۔

اس برس کے آغاز پر یورپی پارلیمان کی کمیٹی نے ایک رپورٹ کی توثیق کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد سی آئی اے کی ایک ہزار سے زیادہ پروازیں یورپی فضائی حدود سے گرزی یا بعض یورپی ممالک میں اتری تھیں۔

حقوق انسانی کی ان تنظیموں کو خدشہ ہے کہ ان مشتبہ افراد کو ایسے ملکوں میں بھیجا گیا ہے جہاں انہیں اذیت کا سامنا ہوگا۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے ان افراد میں سات برس کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔

سی آئی اے دفترسی آئی اے بے نقاب
سی آئی اے ملازم اور ایجنٹ انٹرنیٹ پر
مشرف’ہمیں اربو ڈالر ملے‘
قیدی امریکہ کے حوالے کرنے پر انعام
گونتاناموبےسابق اہلکارکاانکشاف
’مشتبہ افراد پرعرب دنیامیں تشدد کیاجاتاہے‘
گوانٹانامو بےامریکہ پر الزامات
یورپی تفتیش کار کی تصدیق اور تنقید
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد