’امریکہ خفیہ جیلوں کو ختم کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے ایک گروپ نے انتالیس افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی یا سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں رکھے گئے تھے اور اب ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں معلوم۔ گروپ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لیے قائم خفیہ جیلوں کو ختم کیا جائے۔ امریکی صدر بش نے گزشتہ سال اعتراف کیا تھا کہ ایسی جیلیں موجود ہیں مگر ان میں اب کوئی قیدی نہیں ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی حکام، ذرائع ابلاغ اور قید میں رہنے والے بعض افراد سے انٹرویوز کے بعد اپنی فہرست مرتب کی ہے۔ اس گروپ میں شامل ایک تنظیم ’رِپریِو‘ کے لیگل ڈایریکٹر کلائیو سٹیفرڈ کا کہنا ہے کہ یہ وقت ہے کہ امریکہ اپنی صفائی پیش کرے۔ انہوں نے کہا: ’یہ انتالیس افراد کئی برسوں سے لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں ملنے والے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ لوگ کبھی نہ کبھی امریکی قید میں تھے۔ یہ لوگ کہاں گئے، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟‘ تاہم سی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا محکمہ امریکی قانون کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرکے کئی منصوبوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو پاکستان، ایران، عراق، سوڈان اور صومالیہ سے گرفتار کرنے کے بعد خصوصی پروازوں کے ذریعے امریکہ کی خفیہ جیلوں میں لے جایا گیا تھا۔ اس برس کے آغاز پر یورپی پارلیمان کی کمیٹی نے ایک رپورٹ کی توثیق کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد سی آئی اے کی ایک ہزار سے زیادہ پروازیں یورپی فضائی حدود سے گرزی یا بعض یورپی ممالک میں اتری تھیں۔ حقوق انسانی کی ان تنظیموں کو خدشہ ہے کہ ان مشتبہ افراد کو ایسے ملکوں میں بھیجا گیا ہے جہاں انہیں اذیت کا سامنا ہوگا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے ان افراد میں سات برس کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں ’سکوٹر‘ لبّی کو ڈھائی برس قید05 June, 2007 | آس پاس سینیئرالقاعدہ رکن امریکی تحویل میں27 April, 2007 | آس پاس سی آئی اے نے تشدد کیا: سفارتکار07 April, 2007 | آس پاس ویلری کی بش انتظامیہ پر تنقید16 March, 2007 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||