سی آئی اے بے نقاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایک اخبار شکاگو ٹرایبون نے دعوی کیا ہے کہ اس نے انٹرنیٹ سے سرچ کر کے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈھائی ہزار ملازمین اور اس کے درجنوں خفیہ ایجنٹوں کا پتہ چلا لیا ہے۔ اخبار نے سی آئی اے کی درخواست پر ملازمین کی فہرست نہیں چھاپی ہے۔ اخبار نے یہ ثابت کرنےکی کوشش کی کہ سی آئی اے کی خفیہ معلومات انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے مل جاتی ہیں اور یہ کمزور سکیورٹی کی نشانی ہے۔ سی آئی اے کے ترجمان نے اپنی سکیورٹی میں خامی کا اعتراف کیا ہے اور کہ انٹرنیٹ نے کچھ ایسے طریقوں کو بے کار کر دیا ہے جو پہلے بہت اچھے انداز میں کام کرتے تھے۔ سی آئی اے کے ترجمان سے جب یہ کہا گیا کہ یہ معلومات دہشت گردوں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ القاعدہ کے پاس اس کی صلاحیت ہے یا نہیں لیکن وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ چینی یہ معلومات انٹرنیٹ سے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شکاگو ٹرائیبون نےاپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس نے کچھ ایسے ویب سائٹوں سے جہاں رقم ادا کرنے کے بعد سرچ کی سہولت ملتی ہے ، سی آئی اے کے دو ہزار چھ سو تریپن ملازمین اور درجنوں ایجنٹوں کی فہرست تیار کی ہے۔ اخبار نے سی آئی اے کے شکاگو، ورجینیا، فلوریڈا، اوہائیو، اور واشنگٹن ڈی سی میں اس کے دفاتر بھی پتہ لگایا ہے۔ | اسی بارے میں ’باخبر‘ ذریعہ نہ بتانے پر صحافی قید07 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||