پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں گلاسگو اور لندن میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے حوالے سے مزید دو اشخاص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس طرح حملوں کے سلسلے میں ابھی تک سات افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ وہ بم حملوں کے سلسلے میں کم از کم ایک اور شخص کی تلاش میں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب تک وہ (لڑکی/لڑکا) پکڑا نہیں جاتا اس وقت تک خطرے کا لیول انتہائی درجے پر رہے گا۔ نامہ نگار نے کہا کہ مشتبہ افراد میں سے تقریباً سبھی کا تعلق مشرقِ وسطٰی سے ہے اور ان میں سے دو ڈاکٹر ہیں جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان میں سے ایک نے بغداد میں جبکہ دوسرے نے اردن میں میڈیکل کی تربیت حاصل کی تھی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ چیسشائر میں ایم 6 موٹر وے سےگرفتار کیے جانے والے افراد میں ایک چھبیس سالہ مرد اور ستائیس سالہ خاتون شامل ہیں۔ برطانوی پولیس کے شعبہ انسدادِ دہشتگردی کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلاسگو اور لندن میں ہونے والے تین مبینہ دہشتگرد حملوں کا ایک دوسرے سے تعلق’واضح‘ ہوتا جا رہا ہے۔
گلاسگو ائرپورٹ سے حراست میں لیے جانے والے دو افراد میں سے ایک سنیچر کے واقعے میں بری طرح سے جھلسنے کے باعث ہسپتال میں ہے۔ دو گرفتاریاں شمالی انگلینڈ کے علاقے چیسشائر سے کی گئی ہیں جبکہ ایک چھبیس سالہ شخص کو لِیور پول کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ دریں اثناء برطانیہ کے وزیرِ داخلہ جیکی سمتھ نے کہا ہے کہ گلاسگو اور لندن میں ہونے والے ناکام بم حملوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں پیش رفت سے وہ مطمئن ہیں۔ ڈپٹی اسٹنٹ کمشنر پیٹر کلارک کے مطابق انہیں’مکمل یقین‘ ہے کہ وہ حملہ آوروں کے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا’ ان حملوں کی تفتیش انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ایسا کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ ہر گھنٹے نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہم ان طریقوں اور منصوبہ بندی کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو دہشتگردوں نے استعمال کی اور یہ کہ ان کا تعلق کس نیٹ ورک سے ہے‘۔ پیٹر کلارک کے مطابق گاڑیوں کی’فورینزک سرچ‘ سے انتہائی قیمتی شواہد ملے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی کی ہزاروں گھنٹے کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے گلاسگوحملے میں استعمال ہونے والی جیپ کا رجسٹریشن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے جو L808 RDT ہے۔ پولیس نے اپیل کی ہے کہ جس کسی نے بھی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس گاڑی کو دیکھا ہو وہ ان سے رابطہ کرے۔
برطانوی حکومت نے گلاسگو ہوائی اڈے کے واقعے کے بعد ملک میں دہشتگردی کے خطرے کا درجہ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے۔ اور پولیس اب بھی لیورپول، سٹیفررڈ شائر اور گلاسگو کے نواح میں مختلف جگہوں کی تلاشی لے رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل سینڈفورڈ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پولیس کو تاحال مزید مشتبہ افراد کی تلاش ہے۔ اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل جان میلکم کے مطابق پولیس کو تفتیش کے حوالے سے عوام کی جانب سے ہر گھنٹے اوسطاً ایک سو کالیں موصول ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا تھا کہ برطانیہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔ وہ سنیچر کو ایک جلتی ہوئی جیپ کوگلاسگو ہوائی اڈے کے مرکزی ٹرمینل میں لے جانے کے واقعے کے بعد بی بی سی سے بات کر رہے تھے جس کا تانا بانا جمعہ کو لندن کے ویسٹ اینڈ سے برآمد ہونے والی دھماکہ خیز مواد سے بھری دو کاروں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم کسی کو بھی برطانوی اندازِ زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔بی بی سی ون کے سنڈے اے ایم پروگرام میں بات کرتے ہوئے گورڈن براؤن کا کہنا تھا:’یہ واضح ہے کہ عام لفظوں میں ہمارا واسطہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے ہے۔‘ گلاسگو ائر پورٹ کے مرکزی ٹرمینل میں جلتی ہوئی جیپ لے کر گھسنے کا واقعہ سنیچر کی دوپہر پیش آیا تھا اور عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک چروکی جیپ کو تیزی کے ساتھ ہوائی اڈے کے اندر جاتے ہوئے دیکھا اور اس کے نیچے سے شعلے نکل رہے تھے۔ |
اسی بارے میں مرکزی لندن،دھماکہ خیز مواد برآمد29 June, 2007 | آس پاس لندن بمبار، تلاش کا دائرہ وسیع30 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||