BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 June, 2007, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں
عمارت میں داخل ہوتے وقت کار میں آگ لگی ہوئی تھی
برطانوی پولیس کے مطابق ایک جلتی ہوئی جیپ کوگلاسگو ہوائی اڈے کے مرکزی ٹرمینل میں لے جانے کی کوشش کی گئی ہے۔

مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت نے اس واقعے کے بعد ملک میں خطرے کے درجے کو انتہائی درجے تک بڑھا دیا ہے۔ برطانوی ہوم سیکرٹری جیکی سمتھ کا کہنا ہے’خطرے کے درجے کے انتہائی حد پر جانے کا مطلب ہے کہ حملے کا خدشہ فوری طور پر موجود ہے‘۔اس سے قبل ایک حکومتی ایک ترجمان نے کہا تھا کہ اس واقعے کو قومی سلامتی کے خطرے کے طور پر نہیں سمجھا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے ایک چروکی جیپ کو تیزی کے ساتھ ہوائی اڈے کے اندر جاتے ہوئے دیکھا اور اس کے نیچے سے شعلے نکل رہے تھے۔

عینی شاہدین نے دو ایشیائی نوجوانوں کو اس کار میں دیکھا اور ان میں سے ایک کو جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعدگلاسگو ہوائی اڈے کو خالی کرایا گیا اور اور تمام پروازیں معطل کردی گئیں۔

ایک عینی شاہد نے کہا: ’میں نے کار کے پہیوں کی آواز سنی اور دھواں نکل رہا تھا۔ میں نے ایک چروکی کار دیکھی جو بظاہر ٹرمینل بلڈِنگ کے اندر جانے کی کوشش کررہا تھا۔ جیب کے نیچے سے شعلے نکل رہے تھے، پھر کچھ لوگ شعلوں سے باہر نکلے۔‘

عینی شاہد رچرڈ گرے نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’ایک سبز جیپ عمارت کے مرکزی دروازے میں تھی۔ ایک ایشین نوجوان کو پولیس کے دو اہلکاروں نے کار سے باہر نکالا، وہ لڑنے کی کوشش کررہا تھا۔‘

 ٹیکسی ڈرائیور ایئن کراسبی نے بتایا: ’یہ حادثہ نہیں تھا۔ گلاسگو ہوائی اڈے پر یہ ایک دانستہ کارروائی تھی۔‘ کراسبی نے بتایا کہ وہاں موجود لوگوں کا ردعمل کار میں سوار نوجوانوں کو بچانا نہیں بلکہ انہیں کنٹرول کرنا تھا۔

’کار دھماکے سے پھٹا نہیں لیکن کچھ آوازیں سنائی دیں جو کہ پیٹرول سے متعلق تھیں۔‘ رچرڈ نے بتایا کہ اس نے ایک نوجوان کو کنٹرول کرنے میں پولیس کی مدد کی۔

ٹیکسی ڈرائیور ایئن کراسبی نے بتایا: ’یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ گلاسگو ہوائی اڈے پر ایک دانستہ کارروائی تھی۔‘ کراسبی نے بتایا کہ وہاں موجود لوگوں کا ردعمل کار میں سوار نوجوانوں کو بچانا نہیں بلکہ انہیں کنٹرول کرنا تھا۔

ادھر جمعہ کے روز برطانوی پولیس نے لندن کے مرکزی علاقے میں کھڑی ایک کار میں موجود دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ایک دوسری کار کا بھی پتہ چلا تھا جس کا پہلی کار سے تعلق تھا۔

پولیس حکام نے بتایا تھا کہ اگر وہ کار بم پھٹ گیا ہوتا تو’بڑے پیمانے پر تباہی‘ ہوئی ہوتی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے شعبۂ انسدادِ دہشتگردی کے سربراہ پیٹر کلارک نے کہا تھا کہ ’اگر دھماکہ ہوتا تو بڑا جانی نقصان ہو سکتا تھا۔‘

برطانوی پولیس ان دونوں کاروں میں دھماکہ خیز مواد رکھنے والوں کی وسیع پیمانے پر تلاش کررہی ہے اور پولیس نے کہا ہے کہ یہ واقعات ’پریشان کن‘ ہیں۔ پولیس مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی کے کئی گھنٹوں کے فوٹیج بھی دیکھ رہی ہے۔

سات جولائی 2005 کو خودکش بمباروں نے لندن کی زیر زمین ٹرینوں اور بسوں میں دھماکے کیے تھے جن میں باون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر سنیچر کے روز واشنگٹن میں بش انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ گلاسگو ہوائی اڈے اور لندن میں شدت پسند خطروں کے مد نظر امریکی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

محمد صدیق خانحملہ آور کون تھے
لندن بم دھماکوں میں ملوث کون اور کیا تھے۔
 لارڈ سٹیونز’شوٹ ٹو کِل‘ پالیسی
لارڈ سٹیونز برطانوی پولیس کے طرفدار
مشتبہ بمباربمباروں کی نئی ویڈیو
پولیس نے مشتبہ بمباروں کی نئی تصاویرجاری کردی
لندن پولیس250 سکیورٹی الرٹ
لندن حملوں کے بعد سینکڑوں الرٹ
سمنتھا لندن بمبار کی بیوہ
’ریڈیکل مساجد نے شوہر پر برا اثر ڈالا‘
محمد صدیق خانخودکش بمبار ’سِڈ‘
کس طرح مغرب زدہ نوجوان شدت پسند بنا
امید کا ایک پودا
سات جولائی: بیسٹن سے ایک رپورٹ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد