BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 July, 2006, 00:17 GMT 05:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سات جولائی: بیسٹن سے ایک رپورٹ

لارڈ مئیر محمد اقبال بیسٹن کے پارک میں پودا لگاتے ہوئے
شہزاد تنویر اور حسیب خان لیڈز میں بیسٹن کے علاقے کے رہنے والے تھے جبکہ صدیق خان قریبی علاقے ڈیوزبری کے رہائشی تھے۔

ایک برس پہلے اگر بیسٹن اور ڈیوزبری کے لوگ مبینہ خودکش حملہ آوروں کے ساتھہ نتھی کردیے جانے کے خوف سے خاموش تھے تو اب یوں نہیں بول رہے کہ ان کی بات کو نہ جانے کیا رنگ دیا جائے۔

ڈیوزبری میں سرگرم ایک سماجی کارکن لسبر لطیف نے مجھے بتایا کہ لوگ تو اب منہ کھولتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ نہ جانے ان کی بات کو کیا رنگ دے دیا جائے۔ اسی وجہ سے اب لوگ تمام سوال اپنے نمائندوں کی جانب لڑھکا دیتے ہیں۔

ایک برس پہلے جب میں لیڈز آیا تھا تو بیسٹن میں میرا ایشیائی مسلمانوں کی ایک ایسی برادری سے واسطہ پڑا تھا جو حیران بھی تھی اور پریشان بھی۔

حیران اس پہ کہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان ہی کے درمیان رہنے ، ہنسنے بولنے والے تین ایسے نوجوانوں کو خودکش حملوں جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا جن میں بظاہراس عمل کی کوئی علامات نہیں تھیں نہ جن کے لیے حالات ایسے تھے۔

ایک خاموشی برقرار، مگر مختلف
 ایک برس پہلے اگر بیسٹن اور ڈیوزبری کے لوگ مبینہ خودکش حملہ آوروں کے ساتھہ نتھی کردیے جانے کے خوف سے خاموش تھے تو اب یوں نہیں بول رہے کہ ان کی بات کو نہ جانے کیا رنگ دیا جائے۔
اور پریشان اس فکر سے کہ اب کیا ہوگا۔ ایک برس بعد مجھے یہ لگا کہ حیرانی اور پریشانی دونوں کم ہوئی ہیں لیکن ساتھ ہی بداعتمادی بھی بڑھی ہے، خصوصاً برطانوی حکومت اور اس کی خارجہ پالیسی پر۔

لیڈز اور ڈیوزبری میں ایشیائی برادری میں سرگرم دو کارکنوں محمد افسر خان اور حنیفہ دروان کے خیال میں جو کچھ ہوا اس کی براہ راست ذمہ داری بلیئر حکومت کی خارجہ پالیسی پر آتی ہے۔

حنیفہ کا کہنا تھا کہ ایک طرف خودکش حملہ آور خود ان حملوں کا تعلق جنگ عراق سے جوڑ رہے ہیں لیکن جب برطانوی مسلمان اس جنگ کی مخالفت کررہے تھے تو ان کو برطانیہ مخالف قرار دیا جارہا تھا حالانکہ مسلمان صرف ایک غیرقانونی جنگ کے خلاف تھے نہ کہ برطانیہ کے۔

محمد افسر کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت سات جولائی کے حملوں کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کیونکہ اصل میں تو یہ برطانوی خارجہ پالیسی ہے جو ردعمل پیدا کررہی ہے۔

ایشیاء برادری میں سفید فاہم پڑوسیوں کو سمجھنے کا رجحان دیکھا گیا
لیکن اس تمام غصے کے ساتھ ساتھ لیڈز کے مسلمانوں میں اپنے مقامی سفید فام پڑوسیوں سے مل کر رہنے کا خیال بھی پروان چڑھا ہے۔ یہ بھی شاید مل کر رہنے کی کوششوں کا ہی ایک ثمر تھا کہ شہر کی تاریخ میں پہلی بار ایک غیر مقامی ایشیائی لیڈز کا لارڈ میئر بنا۔

مقامی برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کا فروغ گزشتہ روز کی تقریبات کا محور تھا اور اس کی امید لارڈ مئیر محمد اقبال نے بیسٹن کے پارک میں پودا لگاتے ہوئے بھی کی کہ مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی خواہش لیڈز کے لوگوں کو متحد کررہی ہے۔

ان کے مطابق یہ پودا امید کا ترجمان ہے اور اس امن کی عکاسی بھی کررہا ہے جو ایک برس پہلے اس وقت بھی برقرار رہا جب بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ لوگ آپس میں لڑ جائیں گے۔

لارڈ مئیر اقبال کے یہ امید افزا الفاظ ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو حوصلہ دے سکیں لیکن بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں، خصوصاً ایشیائی برادری اور مسلمانوں میں، جن کو خدشہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی اس بے پناہ ترقی کے دور میں حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں سے دنیا کے دور دراز خطوں میں پیدا ہونے والے مناظر ہزاروں میل دور آئندہ بھی ردعمل پیدا کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
’جبران کو جانے نہ دیتے‘
05 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد