’لندن بم حملوں کا مدارس سے تعلق نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے سال کے لندن بم حملوں کے بعد پاکستان میں قائم دینی مدارس اس وقت پھر توجہ کا مرکز بنے جب یہ الزام سامنے آیا کہ لندن حملوں کا ایک بمبار پاکستان کے ایک مدرسے میں کچھ عرصہ رہا تھا۔ ان مدارس کا کردار کئی دنوں سے متنازع بنا ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ مدرسے ایسے ہیں جن کا تعلق انتہا پسند گروہوں سے رہا ہے اور ان پر الزام ہے کہ وہ انتہا پسند جہادی تحریکوں کے لیے نفری فراہم کرتے رہے ہیں۔ نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف پر سخت بین الاقوامی دباؤ تھا کہ وہ پاکستان کے مدرسوں کو کنٹرول میں لائے۔ اور لندن بم حملوں کے بعد بھی صدر مشرف نے اس سلسلے میں اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر مدرسوں نے سرکاری طور پر اپنا اندراج کرا لیا ہے۔ مذھبی امور کے وزیر اعجاز الحق کے مطابق مدرسوں لیکن کئی مصبرین کا خیال ہے کہ حکومت کے ان قواعد اور اصلاحات سے مدرسوں کے رجحان پر کوئی خاص اثر نہیں ہو گا۔ اخبار ’دی نیوز‘ کے کراچی کے ایڈیٹر طلعت اسلم کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مدرسے اس کے پابند اس لیئے نہیں ہونگے کہ انہوں نے اپنا اندراج کرانے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ ’سب سے زیاہ عسکریت پسند مدرسوں نے اس سے صاف انکار کر دیا اور حکومت اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکی ہے۔‘ لیکن مدارس چلانے والے کہتے ہیں کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور حکام نے ان کو غلط نشانہ بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ لندن بمباروں نے کبھی کسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہو۔ حکومت نے مدرسوں میں بیرون ملک سے آنے والے طلبہ کے داخلوں پر اب پابندی لگا دی ہے۔ کراچی کے جامعیہ بنوریہ مدرسے میں انٹرنیشنل سٹوڈنٹس جو رہ گئے ہیں ان میں شیکاگو سے آنے والی طالبہ حنا حق بھی شامل ہیں۔ وہ غصے سے پوچھتی ہیں کہ ’صدر مشرف یہ کیوں کر رہے ہیں؟ کیوں مداخلت کر رہے ہیں، کیوں منع کر رہے ہیں؟ اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو وہ مسلمانوں کو اپنے مذھب کے بارے میں سیکھنے سے کیوں روک رہے ہیں؟ یہ سراسر غلط ہے۔ کیا بش یا ٹونی بلئیر ایسا کرتے ہیں؟ یہ احمقانہ حرکت ہے۔ یہ تو ایسا ہے جیسا آپ لوگوں سے کہیں کہ اپنا مذھب چھوڑ دیں۔ مدرسے کے میں پڑھنے والے دوسرے انٹرنیشل طالب علم بھی ایسی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ برطانیہ کے شہر برمنگھم سے آنے والے پندرہ سالہ سعید حسن کہتے ہیں کہ مدرسوں کا لندن حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’مدرسوں میں بم حملوں کی تربیت نہیں دی جاتی نا فائرنگ کی۔ ہم مذھب کے بارے میں سیکھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں۔‘ ان نوجوانوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں ان کے مذھب کی وجہ سے تنقید و شک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پندرہ سالہ افتخار الیاس بتاتے ہیں کہ وہ جب بھی واپس امریکہ جاتے ہیں تو امیگریشن اہلکار ان سے سخت پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ ’کبھی کبھی ان کے سوالات سے میرا دل خراب ہوتا ہے لیکن پھر میں ان پر ہنس لیتا ہوں کیونکہ وہ بار بار وہی سوالات پوچھتے ہیں۔ لیکن کبھی کھبی ان کے سوالات سے مجھے دکھ پہنچتا ہے ۔ ہم اتنے عرصے سے پاکستان میں تھے لیکن کبھی کچھ نہیں ہوا اور اب وہ یہ بیوقوفانہ سے سوالات ہم سے کرتے رہتے ہیں۔‘ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بنیادی مسئلہ مدارس کا نہیں بلکہ ایران، افغانستان اور عراق جیسے ممالک میں امریکی اور برطانوی خارجہ پالیسی کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے مسلم نوجوان عسکریت پسندی کی طرف جاتے ہیں۔ مولانہ سمیع الحق کے مطابق ’اسلام آمریت کے خلاف لڑنے کا سبق دیتا ہے، لیکن یہ سبق طلبہ کسی کلاس میں تو نہیں سیکھتے، یہ تو وہ ٹی وی اور ریڈیو پر خبروں سے سیکھ جاتے ہیں۔اب تو عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار دنیا کے لیئے ایک کھلی کتاب ہے۔‘ پاکستان کے مدارس دینی تعلیم کے مراکز ہیں لیکن ان کے کردار کے بارے میں مشرق اور مغرب میں بالکل متضا د رائے پائی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں میران شاہ: مدرسہ بم سے اڑا دیا گیا 15 March, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان دینی مدارس کے اتحاد کی دھمکی28 December, 2005 | پاکستان مدارس، مساجد کا اندراج شروع08 August, 2005 | پاکستان مدارس کے خلاف قانون پر احتجاج 08 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||