BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 December, 2005, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دینی مدارس کے اتحاد کی دھمکی

مدارس
پاکستانی مدارس میں سات سو سے زائد غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں
پاکستان میں دینی مدارس کے اتحاد نے کہا ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلباء کو اکتیس دسمبر تک ملک بدر کرنے کی صدر جنرل پرویز مشرف کی ڈیڈلائن پر عمل نہیں کریں گے اور یکم جنوری کو اسلام آباد میں تمام مدارس کا ایک علماء کنونشن منعقد ہو گا جس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے سیکرٹری کوآرڈی نیشن حفیف جالندھری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے غیر ملکی طلبا کو نکالنے کا فیصلہ مدارس اور حکمران و اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طلباء کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ امتیازی، جانب دارانہ، غیر آئینی اور غیر شرعی ہے۔

حنیف جالندھری نے کہا کہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء کے پاس ویزے ہیں اور اپنے ممالک کے این وا سی بھی ہیں تو ان کو ملک بدر کیوں کیا جا رہا ہے اور نہ تو یہ طلبا کسی جرم میں ملوث ہیں اور نہ ہی غیر قانونی سرگرمیوں میں۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد کے زیر اہتمام علماء کنونشن میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گااور حکومت پر اس فیصلے کو واپس لینے کے لیے سیاسی و دینی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔

حنیف جالندھری نے کہا کہ مدارس کے رہنماء گزشتہ چار ماہ سے صدر جنرل پرویز مشرف سے اس مسئلے پر ملاقات کے لیے وقت مانگ رہے ہیں مگر انہیں وقت نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی مدارس میں سات سو سے زائد غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں جن کو واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے چار ماہ قبل جب غیر ملکی طلباء کو مدارس سے نکلنے کے لیے ڈیڈ لائن دی تھی تو اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں چودہ سو غیر ملکی طلباء زیر تعلیم تھے اور اب تک سات سو سے زائد طلباء کو ملک بدر کیا جا چکا ہے تاہم اتحاد تنظیمات مدارس کے مطابق ملک بدر کیے جانے والے طلباء اپنی مرضی سے واپس گئے ہیں اور مدارس نے ابھی تک کسی بھی طالبعلم کو ملک بدر نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
اندراج پر مدارس کا اجلاس
12 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد