مدارسی اصلاحاتی بورڈ سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دینی مدارس کے اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ نےحکومت کےقائم کردہ مدارس اصلاحات بورڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا ہے کہ ان کے مدارس کا کوئی نمائندہ اس سرکاری بورڈ کی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے دینی مدارس میں دس لاکھ کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ حکومت پاکستان دینی مدارس کی رجسڑیشن، ان کےقواعدو ضوابط اور نصاب کے حوالے سے تبدیلیاں لانا چاہتی ہے اور حکام کے اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ کے نمائندوں سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ منگل کو ملک کے پانچ وفاق المدارس کے نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ تنظیمات مدارس کے رابطہ سیکرٹری حنیف جالندھری نے کہا کہ’ ان کےوفاقی وزیربرائے مذہبی امور سے مذاکرات جاری تھےاور وہ کسی حتمی بات پر پہنچنے کے بعد ایک مسودہ ترتیب دے رہے تھے کہ مدارس کے نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر تین مئی کو اچانک مدارس اصلاحات بورڈ کا اعلان کر دیاگیا۔‘ حنیف جالندھری نے کہا کہ ’اگر حکومت اس طرح کے حربے اختیار کرتی رہی تو وہ مجبور ہونگے کہ حکومت سے چار سال سے جاری مذاکرات سے بھی لاتعلقی ظاہر کردیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اس بورڈ میں تعلیم، مذہبی امور، داخلہ کے وزراء اور وزارتوں کے سیکرٹری شامل ہیں۔اس کےعلاوہ مدارس کے صرف ایک نمائندہ کو شامل کیاگیا۔ تنظیم المدارس پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ایک نمائندے کو شامل کرکے حکومت نے مدارس کے اتحاد کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور اعتماد میں لیے بغیر اصلاحات بورڈ کے قیام کا اعلان کرکے مدارس کے نمائیندوں کی نظر میں حکام نے اپنی ساکھ متاثر کی ہے۔ پریس کانفرنس میں وفاق المدارس السلفیہ کے سیکرٹری جنرل میاں نعیم الرحمان،وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عباس نقوی اور سنی عالم دین مولانا ڈاکٹر سرفرازنعیمی بھی موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||