لندن حملے: شہزاد تنویرکی ویڈیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ سال سات جولائی کو لندن میں کیے جانے والے حملوں میں شریک ایک خود کش بمبار شہزاد تنویر کی ایک ویڈیوالجزیرہ ٹیلی ویژن سے جاری کی گئی ہے جس میں وہ مزید حملوں کی عندیہ دے رہے ہیں۔ برطانیہ کے شہر لیڈز کے رہنے والے شہزاد تنویر نے سات جولائی 2005 کو کیے جانے والے خود کش بم حملوں کے دوران آلڈگیٹ میں ٹرین کو اڑانے کی کوشش کی تھی جس میں سات مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ اس ویڈیو میں شہزاد تنویر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’جو کچھ آپ نے دیکھا ہے وہ صرف ان حملوں کی ابتداء ہے جو جاری رہیں گے اور آگے چل کر مزید طاقتور ہوں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لندن میں بم حملوں کے ایک سال کی تکمیل پر اس ویڈیو کے جاری کرنے کا مقصد ’زیادہ سے زیادہ‘ تکلیف پہنچانا ہے۔ تنویر شہزاد کا لہجہ اس ویڈیو میں یارک شائر کے لوگوں کا سا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ’یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ تم افغانستان اور عراق اپنی فوجیں واپس نہیں بلا لیتے‘۔ اس ویڈیو کا اعلان ایک اسلامی ویب سائٹ پر کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری اور امریکی آدم غدان کا بیان بھی شامل ہے۔ آدم غدان کو عظام الامریکی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ غدان ہی القاعدہ کے پروپیگنڈے کے نگراں ہیں۔ تنویر اس ویڈیو میں برطانیہ کے غیر مسلموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہی کے ووٹوں سے وہ حکومتیں وجود میں آئی ہیں جو فلسطین، افغانستان، عراق اور چیچنیا میں ہماری ماؤں، بہنوں، بچوں اور بھائیوں کا مسلسل ظلم کر رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بندوقوں سے مسلح لوگوں کے درمیان کچھ لوگ دھماکہ خیز مادہ ملا رہے ہیں وار ایک نامعلوم آدمی لندن کے نقشے پر دکھائے گئے مختلف مقامات پر دائرے سے نشان بنا رہا ہے۔ یہ ویڈیو ایک اور خود کش بمبار صدیق خان کی اس ویڈیو سے بہت ملتی جلتی ہے جو ستمبر دو ہزار پانچ میں جاری کی گئی تھی۔ دونوں بمباروں نے ایک ہی طرح کا لباس پہن رکھا ہے اور سروں پر ایک ہی طرح کا رومال باندھ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں ’الشہاب‘ کا وہ نشان بھی دکھائی دے رہا ہے جو القاعدہ کے ویڈیوز کی شناخت تصور کیا جاتا ہے۔ سلامتی کے امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے جاری ہونے سے اس تصور کو مزید تقویت حاصل ہو گی کہ لندن کے حملوں کے پیچھے القاعدہ کا ہی ہاتھ تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر اینڈی ہیمین کا کہنا ہے کہ پولیس اس طرح کی ویڈیو ہونے کی بارے میں آگاہ تھی اور یہ ویڈیو ان کی تحقیقات میں شامل رہے گی۔ | اسی بارے میں سات جولائی کے بعد نسلی منافرت میں اضافہ16 December, 2005 | آس پاس نفرت کے بم اور لندن کا عزم08 July, 2005 | قلم اور کالم لندن دھماکے: ملزموں کی تلاش شروع07 July, 2005 | آس پاس لندن میں دھماکے: لائیو ویڈیو07 July, 2005 | صفحۂ اول لندن دھماکے: 38 ہلاک، 700 زخمی07 July, 2005 | آس پاس وسطی لندن میں دھماکے07 July, 2005 | صفحۂ اول لندن دھماکے: آپ نے کیا دیکھا07 July, 2005 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||