’مجھے آج بھی یقین نہیں آتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن بم دھماکوں میں ملوث ایک بمبار حسیب حسین کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی یقین نہیں کہ ان کا بیٹا اس قسم کے حملے کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ انیس سالہ حسیب حسین نے لندن کے ٹیوسٹاک سکوائر پر نمبر تیس بس میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس حادثے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بی بی سی کے پروگرام ریئل سٹوری میں سات جولائی میں ہلاک ہونے والی نیتو جین کے بوائے فرینڈ غوث علی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے محمود حسین کا کہنا تھا کہ’مجھے کسی نے کوئی ثبوت نہیں دکھایا جس سے یہ پتہ چلے کہ وہ اس میں ملوث تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ ایسا کچھ کرے گا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دیتا‘۔ محمود حسین کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں گزشتہ برس چھ جولائی کو ان کا بیٹا دوستوں سے ملنے لندن گیا تھا۔ محمود حسین نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ انہیں حسیب کے لندن دھماکوں میں ملوث ہونے کا یقین نہیں اور کہا کہ ان کے خاندان میں بھی سب خود کش حملوں کے کسی منصوبے سے لاعلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان پر تاحال حقیقت مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی اور وہ تاحال اپنے سوالات کے جوابات کے منتظر ہیں۔ محمود حسین نے یہ بھی بتایا کہ دیگر تینوں بمبار بھی ان کےگھر آئے تھے اور وہ حلیے سے معزز شہری معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ حسیب کے ان دوستوں کو انتہاپسند قرار دیتا رہا ہے لیکن وہ بالکل عام سے شہری تھے۔ محمود حسین نے لندن بم دھماکوں کی عوامی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تاکہ دنیا ان کے بیٹے کے خلاف پیش کیئے جانے والے ثبوت دیکھ سکے۔ بی بی سی کے اس پروگرام میں شریک غوث علی کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ حسیب حسین کے خاندان کو اس کے عزائم کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ محمود حسین ہر بات سے ’انکاری‘ ہیں لیکن وہ ان کا دکھ سمجھتے ہیں جو محمود کے چہرے پر عیاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ’وہ دکھ جو میں نے سہا میں ان کے چہرے پر بھی صاف دیکھ سکتا تھا‘۔ غوث علی کا کہنا تھا کہ’حسیب کے اس عمل کی بنیاد پر محمود حسین کے خاندان سے نفرت کی کوئی وجہ نہیں بنتی لیکن پھر بھی مجھے محمود حسین کے اس بیٹے سے کوئی ہمدردی نہیں جس نے مجھ سے میرے پیار چھین لیا‘۔ | اسی بارے میں خود کش بمبار کیسے بنتا ہے؟30 April, 2006 | آس پاس حملہ آور کون تھے؟14 July, 2005 | آس پاس ’حسیب حسین ایسا تو نہ تھا‘16 July, 2005 | آس پاس ’بمبار‘ کی غلط تصویر جاری ہوئی 21 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||