BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 April, 2006, 07:14 GMT 12:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش بمبار کیسے بنتا ہے؟

صدیق خان
صدیق خان اس حملہ آور ٹیم کے رہنما تھے
انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے کہ جو کسی شخص کو خودکش بمبار بننے پر مجبور کرتی ہے۔

اس سلسلے میں لندن میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں یورپی ماہرین نے اس موضوع پر اپنے نظریات پیش کیئے۔

اس کانفرنس میں برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں اسلامی خودکش حملہ آوروں کی موجودگی کے امکان پر بھی بحث ہوئی۔کانفرنس کا مقصد انفرادی جہادیوں کے عزائم اور مقاصد کے معمے کو سمجھنا اور اسے حل کرنا تھا۔

تاہم اس معمے کا تاحال کوئی حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔

اس کانفرنس میں زیرِ بحث موضوعات میں سے ایک اہم موضوع نفسیاتی خاکہ کشی کا بھی تھا۔ نفسیاتی خاکہ کشی کی مدد سے ایک دہشت گرد گروہ کے عزائم کا اندازہ لگا کر یہ جانا جا سکتا ہے کہ آئندہ کارروائی کون سا گروہ کر سکتا ہے۔

کانفرنس کے دوران ناروے کے ڈیفینس ریسرچ ادارے کے پیٹر نیسن نے لندن کے خود کش بمباروں کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ یہ چاروں حملہ آور چار مختلف اقسام سے تعلق رکھتے تھے جن میں محمد صدیق خان اس حملہ آور ٹیم کے رہنما جبکہ شہزاد تنویر ان کے مقتدی تھے۔ تیسرے بمبار حسیب حسین ایک ایسے فرد تھے جو کہ اس معاشرے میں اپنے کردار سے نالاں تھے جبکہ جرمین لنڈسے ایک ایسے شخص تھے جو حالات کی بنیاد پر اپنی راہ تبدیل کر لیتے ہیں۔

پیٹر نیسن کے مطابق محمد صدیق خان جیسے رہنما کی شخصیت اکثر آئیڈیلسٹ ہوتی ہے اور ان کا ذہنی رجحان شدت پسندانہ ہوتا ہے۔ صدیق خان نے بھی اس ذہنی رجحان کے تحت کشمیریوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ’ تاہم اس قسم کے رہنماؤں کو کسی مذہبی امام کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ وہ کسی جہادی ڈھانچے سے بھی منسلک ہوتے ہیں۔

حملہ آوروں کی دوسری قسم مقتدیوں کی ہے جو کہ ہر عمل کے لیئے اپنے رہنما کی جانب دیکھتے ہیں جبکہ تیسری قسم حسیب حسین جیسے افراد کی ہے جو کہ معاشرے سے ناخوش ہوتے ہیں۔ ایسے افراد دہشت گردگروہوں میں اپنے ذاتی مسائل کی وجہ سے شامل ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مسائل اس طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔ چوتھی قسم کے لوگ جرمین لنڈسے جیسے ہوتے ہیں جو کہ حالات یا روابط کی بنا پر کسی گروہ میں شامل ہوتے ہیں تاہم ان افراد پر نہ ہی گروہ کے اہم معاملات میں بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں اہم رازوں میں شریک کیا جاتا ہے۔

لندن دھماکوں نے ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا تھا

لندن بم دھماکوں کے بعد چاہے ایک عام آدمی کے لیئے نفسیاتی خاکہ کشی کا عمل قابلِ اطمینان ہو تاہم اس اجلاس کے دوران اسے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے استاد انسدادِ دہشتگردی کے ماہر ڈاکٹر جان ہارگن کا کہنا تھا کہ’ میرا ماننا ہے کہ اسلامی دہشت گردوں کی نفسیاتی خاکہ کشی صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ عزم مختلف افراد میں مختلف طریقے سے پایا جاتا ہے اور اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جانے پہچانے دہشت گردوں کے طریقوں کی مدد سے ہم دیگر حملوں کے بارے میں پیشین گوئی کر سکتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے‘۔

اس سوال پر کہ نفسیاتی خاکہ کشی کا متبادل کیا ہے، ڈاکٹر ہارگن کا کہنا تھا کہ’ نفسیاتی خاکہ کشی کے مقابلے میں ان افراد کی معاشرتی خاکہ کشی ہونی چاہیئے۔ دراصل ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک فرد کس طرح دہشت گردی کی جانب راغب ہوتا ہے اور یہ جان کر ہی ہم انسدادِ دہشتگردی کی پالیسیاں تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جہاں ہم انہیں روک سکتے ہیں یا روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں‘۔ اس کانفرنس میں اس بات پر بھی بحث کی گئی کہ ان دہشتگردوں کے مالی لین دین پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد