BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ کے لیے روح فرسا سال

لندن دھماکے
ان دھماکوں نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا
برطانیہ کے لیے سن دو ہزار پانچ کا سال روح فرسا ثابت ہوا ہے جب کہ دہشت گردی نےاس کے معاشرہ کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کی کایا یکسر پلٹ دی-

سات جولائی کو جب برطانیہ کے عوام سن دو ہزار بارہ کے عالمی اولمپکس کے لیے لندن کے انتخاب کا جشن منا رہے تھے اور سکاٹ لینڈ میں برطانیہ کی قیادت میں جی ایٹ کے سربراہی اجلاس کا افتتاح ہورہا تھا لندن کا ٹرانسپورٹ نظام اچانک دہشت گردی کا نشانہ بنا۔

پچاس پچاس سیکنڈ کےوقفہ سے تین انڈر گراؤنڈ ٹرینوں میں بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں کے بارے میں پہلے یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ یہ بجلی کی رسد پردباؤ میں اچانک اضافہ کی وجہ سے ہوئے ہیں لیکن جب ان دھماکوں کے کچھ ہی دیر بعد چوتھا دھماکہ مسافروں سے بھری ایک بس میں ہوا تو لوگوں کا ماتھا ٹھنکا کہ کہیں یہ منظم دہشت گرد حملے تو نہیں۔

اسی طرح کے دھماکے دو سال قبل سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ٹرینوں میں ہوئے تھے- بہت جلد یہ اندیشے صحیح ثابت ہوئے اور حقائق سامنے آئے کہ یہ خود کش حملے تھے جن میں ستاون افراد جاں بحق ہوئے-

ابھی جب کہ لندن ان دھماکوں کی وجہ سے سراسیمگی کے عالم میں تھا تیرہ دن بعد لندن کے انڈر گراؤنڈ سٹیشنوں میں اور ایک بس پر بم کے ناکام حملے ہوئے جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ایک روز بعد ایک انڈر گراؤنڈ سٹیشن میں برازیل کا ایک بے گناہ نوجوان پولس کے ہاتھوں مارا گیا -

سات جولائی کا یہ حملہ برطانیہ میں سن اٹھانوے کے بعد دوسرا بڑا دہشت گرد حملہ تھا۔سن اٹھانوے میں سکاٹ لینڈ کے قصبہ لاکربی پر پین ایم کا طیارہ بم کے دھماکہ سے پھٹ کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس حادثے میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے-

تاہم لندن میں یہ باون برس کے بعد پہلے منظم حملے تھے جب کہ دوسری عالم گیر جنگ کے دوران بالہم ، بیتھنل گرین اور بنک سٹیشن پر فضائی بمباری سے ڈھائی سو افراد ہلاک ہوئے تھے-

دھماکوں کے دو ملزمان صدیق اور تنویر
دھماکوں کے دو ملزمان صدیق اور تنویر

لندن میں سات جولائی کے بم حملوں سے پہلے اس طرح سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی جس طرح آئی آر اے کی تنظیم اپنے حملوں سے پہلے دیتی تھی اور نہ کسی تنظیم نے یہ دعوٰی کیا کہ یہ حملے اس کی طرف سے کیے گئے ہیں اور کس مقصد کے لئے کیے گئے ہیں-

تاہم کلوز سرکٹ ٹیلی وژن کی فلموں اور بعد میں پولیس کی تفتیش کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ان حملوں کے پیچھے لیڈز کے چار مسلم نوجوان، محمد صدیق خان، شہزاد تنویر، جرمین لنڈسے اور حسیب حسین تھے جو شدت پسندی سے بے حد متاثر تھے اور ان میں سے چند کا پاکستان میں دینی مدارس سے تعلق رہا تھا-

یہ پہلا موقع تھا کہ برطانیہ خود یہاں کے پلے بڑھے اور لکھے پڑھے مسلم نوجوانوں کے خود کش حملوں کا نشانہ بنا- اس سے پہلے برطانیہ کے مسلم شدت پسند کشمیر، افغانستان اور بوسنیا کی جنگ میں تو لڑ چکے ہیں اور اسرائیل میں خود کش حملے بھی کر چکے ہیں لیکن برطانیہ میں مسلم شدت پسندوں کے یہ پہلے خودکش حملے تھے-

اس حقیقت نے پورے معاشرہ کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ سوالات ابھرے کہ کیا وجہ ہے کہ برطانیہ کے مسلم نوجوان ان مہلک اقدامات پر مجبور ہوئے ہیں-

ان حملوں کے بعد ردِ عمل کے طور پر مسلمانوں کے خلاف منافرت کی کچھ ایسی فضا ابھری کہ مسلم برادری خوف زدہ ہوگئی اور اسے یوں لگا کہ جیسے پوری برادری کو ان حملوں کا مجرم گردانا جارہا ہے۔ کچھ کثیر الاشاعت اخبارات نے بھی اس احساس کو مہمیز دی-

لندن دھماکے اور اخبارات
اخبارات نے بھی اختلافات کو ہوا دی

لیکن برطانیہ میں مسلم قیادت اور برادری کی طرف سے بیک آواز اور پوری شدت سے ان حملوں کی مذمت کی بدولت منافرت کی فضا کچھ چھٹی اور سنجیدہ حلقوں میں ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش شروع ہوئی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ برطانیہ میں پلے بڑھے مسلم نوجوان اس نوعیت کی کاروائی پر مجبور ہوئے-

کیا اس کی وجہ برطانیہ کے مسلمان نوجوانوں میں اقتصادی محرومی ہے؟ کیا یہاں کے مسلم نوجوان اس معاشرہ سے بالکل کٹے ہوئے ہیں؟ کیا یہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے خلاف احتجاج کی آخری حد ہے یا یہ برطانیہ کے مسلم نوجوانوں کی بے بسی اور بے کسی کے احساس کا اظہار ہے؟

بہت سے لوگ لندن میں جولائی کے خود کش حملوں کو امریکہ میں گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کے حملوں کے مماثل قرار دیتے ہیں لیکن ایک بڑا فرق نمایاں ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کے حملوں میں تمام کے تمام غیر ملکی ملوث بتائے گئے تھے جبکہ لندن کے بم حملوں کے پیچھے برطانوی مسلم نوجوانوں کا ہاتھ تھا جو اس ملک میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے اور اسی ملک کے سکولوں میں انہوں نے تعلیم حاصل کی-

شروع شروع میں تو برطانوی حکومت اس بات کو تسلیم کرنے سے صاف انکاری تھی کہ جولائی کے ان حملوں کا عراق کی جنگ میں برطانیہ کی شمولیت سے کوئی تعلق ہے لیکن پچھلے دنوں ان حملوں میں شامل ایک خودکش بمبار محمد صدیق خان کا جو ویڈیو منظر عام پر آیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملہ آور نوجوان عالم اسلام کے بارے میں مغرب اور خاص طور پر عراق افغانستان اور فلسطین کے بارے میں برطانوں پالیسی پر مشتعل تھے-

ٹونی بلیئر مسلمان کمیونٹی کے رہنماؤں کے ساتھ
ٹونی بلیئر مسلمان کمیونٹی کے رہنماؤں کے ساتھ

محمد صدیق خان کا ویڈیو میں نہایت واضح الفاظ میں یہ کہنا تھا کہ عراق افغانستان اور فلسطین کے خلاف جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہم ان جیسی کاروائی کریں گے- محمد صدیق خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ آپ کی جمہوری طور پر منتخب حکومتیں پوری دنیا میں میرے عوام پر ظلم و ستم توڑ رہی ہیں‘۔

بلا شبہ جولائی کے حملوں کے بعد برطانیہ میں مسلم برادری خوف زدہ اور متزلزل ہوگئی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان حملوں نے اس ملک کے سنجیدہ اور اہل فکر افراد کے ذہنوں کو جھنجھوڑا ہے اور انہوں نے برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے مسائل کے مختلف پہلوؤں کو اور ان کے انداز فکر کو سمجھنے کی کوشش کی ہے-

برطانوی حکومت البتہ اب بھی ان حملوں کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کرانے سے انکار کر رہی ہے کیونکہ اسے شدید خطرہ ہے کہ ایسی صورت میں ان تمام مسائل کی زنبیل کھل جائے گی جن پر برطانوی حکومت پردہ ڈالنے کے در پے ہے- آزادانہ تحقیقات میں لازمی طور پر برطانیہ کی خارجہ پالیسی، عراق کی جنگ میں برطانیہ کا کردار، افغانستان کی جنگ میں برطانیہ کا حصہ اور افغانستان میں بدستور برطانوی فوجوں کی موجودگی اور مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کی حالت زار، یہ سب مسائل کھل کر سامنے آئیں گے-

اسی کے ساتھ برطانوی حکومت کو اندیشہ ہے کہ لندن کے خود کش حملوں کو روکنے میں اس کی ناکامی بے نقاب ہوگی اور خاص طور پر انٹیلی جنس اداروں کی مبینہ غفلت اور کارکردگی منظر عام پر آجائے گی-

لندن دھماکوں کے بعد مسلح پولیس
برطانوی حکومت نے اس مسئلے کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا

تاہم برطانوی حکومت نے ان حملوں کو جواز بنا کر بڑی عجلت میں انسداد دہشت گردی کے سخت اور بہت سے لوگوں کے نزدیک جابرانہ قوانین نافذ کیے ہیں جن کے خلاف شہری آزادیوں کی تنظیموں نے پر زور صدائے احتجاج بلند کی ہے اور مسلم قیادت نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ان قوانین کے نتیجہ میں برطانیہ کے مسلمانوں میں تشویش اور خوف بڑھے گا اور ان کے مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہوجائیں گے-

اس لحاظ سے سن دو ہزار پانچ کا سال برطانیہ کے لیے ہولناک اور روح فرسا سال ثابت ہوا ہے جس کے اثرات اور مضمرات اس معاشرہ کے لیے دور رس اور نہایت خطرناک ہوں گے-

لندن دھماکے کے ملزماننسلی منافرت
برطانیہ میں ان واقعات میں چوبیس فیصد اضافہ
حملے اور ’اعتراف‘
ساجدہ کے بیان اور بم حملوں کی ویڈیوز
لندن کے ایک انڈرگراؤنڈ ٹرین سٹیشن کا منظرحملے کے بعد
لندن والے اپنی معمول کی زندگی پر واپس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد