دہشت گردی کےخلاف نیا قانون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرداخلہ چارلس کلارک پیر کو دہشت گردی کے خلاف حکومت کا تجویز کردہ نیاقانون پیش کریں گےاور حزب اختلاف میں ان کے متبادل اس مجوزہ قانون پر بحث کا آغاز کریں گے۔ اس سلسلے میں چارلس کلارک نے امور داخلہ کے بارے میں حزب اختلاف کے ترجمان ٹونی ڈیوڈ ڈیوس اور لبرل ڈیموکریٹس مارک اویٹن کو علیحدہ علیحدہ خطوط لکھےہیں۔ ان خطوط میں انہوں نے انہیں اس قانون کےاہم نکات کے بارے میں پیشگی آگاہ کر دیا ہے تاکہ اس قانون کی منظوری کی راہ ہموار کی جاسکے۔ لندن بم دھما کے کرنے والے سکیورٹی سروسز کے ہاتھوں کیوں پکڑے نہیں گئے؟ اس بارے میں کوئی انکوائری نہیں کی جا رہی ہے۔ اس بات کا اظہار لارڈ چانسلر لارڈ فیلکونر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی انکوائری کا وقت نہیں ہے بلکہ یہ ضرور ہے کہ اس بات کو طے کیا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف کیا قانونی اقدامات ضروری تھے؟ لارڈ فیلکونر نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے قانون کے تحت مغربی اقدار کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں اور خودکش حملوں کو قابل تعریف قراردینے والوں کو طویل عرصے کے کیے قید کیا اور جہاں بھی ممکن ہوگا ملک بدر کیا جا سکےگا۔ انہوں نے کہا کہ’محض کوئی قانون دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکتا ہے‘ امور داخلہ کے بارے میں حزب اختلاف کے ترجمان ٹونی ڈیوڈ ڈیوس نے اس بارے میں بہتر تعمیری نتائج حاصل ہونے کی امید ظاہر کی۔
انہوں نےاس قانون میں ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور دوسرے قابل گرفت شواہد جیسی اضافی تجاویز شامل کرنے کی سفارش کی۔ لارڈ فیلکونر نے کہا کہ لندن بم حملوں کا یہ مطلب نہیں کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی سروسز ناکام ہو گئیں تھیں یا رائج قوانین غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان واقعات سے سبق حاصل کیا ہے اور اس لیے ہی ہم نئے قانون بنانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں تمام سیاسی پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ اس موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں تمام اہم اقدامات اٹھائے جائیں لیکن اس طرح کے واقعات کو جنم دینے والےان عوامل کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔ جو اس قسم کے خیالات کی پرورش کر تے ہیں اور جو دہشت گردی کی وجہ بن رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہےکہ اس سال خزاں میں دہشت گردی کےخلاف قانون منظور کر لیا جائے گا آئندہ گرمیوں کے دوران تحریری شکل میں سا منے آجائے گا۔ اس قانون میں ایک تجویز بلواسطہ ا کسانے کے حوالے سے ہے، اس بارے میں لارڈ فیلکونر کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات قابل گرفت ہوں گے جن میں دہشت گردی کےحملوں کی حوصلہ افزائی اورترغیب دی جائے۔ اخبار دی سن کا کہنا ہے کہ تیس سالہ محمد صدیق خان اس وقت ایک خطرے کی شکل میں سامنے آیا جب گزشتہ سال ایک تفتیش کے دوران اس کا نام سامنے آیا تھا۔
اس بارے میں مقامی افسران نے یہ سمجھا کہ کیونکہ اس کاتفتیش سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور اس سے کسی کو کوئی خطرہ بھی نہیں ہے لہذا اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ڈیوزبری، مغربی یارک شائر کےصدیق خان نے لندن کے ایک انڈر گراؤنڈ ہولبوک، لیڈز کےاٹھارہ سالہ حسیب حسین نے تیس نمبر کی ڈبل ڈیکر بس پر خودکش حملہ کیا تھا۔ جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بیسٹون، لیڈز کے بائیس سالہ شہزاد تنویر نے الگیٹ ٹیوب سٹیشن پرخودکش حملہ کیا تھا۔ جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ انیس سالہ جرمین لنڈسے نےکنگز کراس ٹیوب سٹیشن پرخودکش حملہ کیا تھا۔ جس میں چھبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||