چھوٹیاں کوٹاں میں تنویر کی برسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے بم دھماکوں میں ملوث ایک مبینہ خودکش بمبار شہزاد تنویر کی برسی پاکستانی پنجاب کے اس گاؤں میں منائی گئی جہاں ان کی قبر واقع ہے لیکن اس موقع پر گاؤں کا ماحول تناؤ کا شکار رہا۔ اس برسی میں ذرائع ابلاغ کے کسی نمائندے کو شرکت کی اجازت ملی نہ ہی کسی دوسرے گاؤں کا کوئی انجان شخص اس مذہبی رسم میں شریک ہوسکا۔ جمعہ کی دوپہر جب میں فیصل آباد سے کوئی ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں چھوٹیاں کوٹاں پہنچا تو تنویر شہزاد کے ماموں طاہر عرف ننھا کے گھر ان کے عزیز اوقارب آنا شروع ہوچکے تھے۔ گھر کے عقبی دروازے کے سامنے پنجاب کے روائتی دیہی طریقے کےمطابق تین نائی پیاز چھیل رہے تھے، مصالحہ کوٹا جا رہا تھا۔ دوچارپائیوں پر تین چار افراد بیٹھے تھے ہم نے مصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھائے تو انہوں نے سردمہری سے ہاتھ تھام لیے۔ تعارف کے بعد جاننا چاہا کہ شہزاد تنویر کے ماموں کہاں ہیں؟ جواب ملا کہ’ وہ یہاں نہیں ہیں آپ چلے جائیں۔‘ اس گاؤں میں جہاں تنویر کا مدفن ہے وہاں اس کے ماموں طاہر عرف ننھا کے سوا اور کوئی قریبی رشتہ دار نہیں رہتا۔ انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا لیکن اس کی نوبت نہ آئی جس ماموں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ گاؤں میں نہیں ہیں وہ خود ہی گھر کے اندر سے برآمد ہوگئے خلاف توقع وہ باریش نہیں تھے۔
تعارف کروانے کے بعد ان سے ابھی یہ پوچھا ہی تھا کہ’ کیا یہ دیگیں برسی پر نیاز دلوانے کے لیے پکوائی جارہی ہیں ؟ ‘انہوں نے الٹا تلخ لہجے میں سوال کر دیا کہ کیا اب اس پر بھی پابندی ہے؟اور پھر جواب کا موقع دیئے بغیرخود ہی کہا کہ ’ہاں یہ برسی کے لیئے ہیں جس نے جو بگاڑنا ہے بگاڑ لے‘۔ اور اس کے بعد دو تین گندی گالیاں اور دھکے شائد پہلے سے ہمارے نصیب میں لکھے تھے۔ سنگین تنائج کی دھمکیوں کے بعد مزید ٹھہرنا مناسب نہ لگا واپس جاتے ہوئے مقامی لوگوں سے بات کی کوشش کی لیکن کسی نے جواب دینا پسند نہیں کیا۔ صرف ایک موٹرسائیکل رکشہ ڈرائیور محمد ریاض بٹ نے بتایا کہ برسی کی تقریب مقامی مسجد میں منعقد کی جائے گی جبکہ کھانا پکوا کر وہیں لے جایا جائے گا۔ قریبی تھانے گئے تو مشورہ ملا کہ سب سے زیادہ معلومات مقامی ٹی چینل کے نمائندے حق نواز کے پاس ہیں جو خود یہ سن کر حیران رہ گئے کہ میرے ڈیجٹل کیمرے میں شہزاد تنویر کی قبر کی تصویر موجود ہے جو میں نے گاؤں میں داخل ہونے سے پہلے ہی بنا لی تھی۔ مقامی پولیس کی جانب سے سب سے باعلم قرار دیئے جانے والے صحافی حق نواز کی حیرت ہمارے لیئے مزید حیرانگی کا سبب تھی۔ مقامی صحافی حق نواز نے بتایا کہ عملاً اس گاؤں میں صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہوچکا ہے اور بھولے چوکے کوئی چلا جائے تو اسے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اطلاع کی چھان بین کے لیئے کہ ’کہیں شہزاد تنویر کا مزار بناکر اب وہاں پر منتیں مرادیں تو نہیں مانی جارہی ہیں؟‘ تین روز پہلے وہ تنویر شہزاد کی قبر دیکھنے گئے تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔‘ ان کے بقول کچھ لوگوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور اسلحہ نکال کر جان سے مارنے کی دھمکی دی تاہم وہ ان کے چنگل سے نکل آنے میں کامیاب ہوگئے۔ تھانہ صدر سمندری میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ پچھلے برس تنویر شہزاد کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد ان کے ماموں کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے کئی روز تک پکڑے رکھا اور تفتیش کی تھی۔ ان کے بقول ان کا تلخ رویہ اس کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک اس لیئے ہوا کہ ان کے گاؤں کی خبریں اخباروں میں شائع ہوئیں۔ | اسی بارے میں لندن دھماکے: وجہ وسائل میں کمی 11 May, 2006 | آس پاس ’مجھے آج بھی یقین نہیں آتا‘06 July, 2006 | آس پاس دہشت گردوں سے تعلق نہیں: اٹلی01 August, 2005 | آس پاس لندن حملے: شہزاد تنویرکی ویڈیو06 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||