دہشت گردوں سے تعلق نہیں: اٹلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ روم سے گرفتار ہونے والے مشتبہ حملہ آور کا دہشتگردوں کے کسی بڑے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ روم میں اطالوی پولیس کے افسران کا کہنا ہے ایتھوپیا میں پیدا ہونے والے ستائیس سالہ عثمان حسین عرف حامدی اسحاق نے برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ روم کی انسدادِ دہشتگردی کی پولیس کے سربراہ کالرو ڈی سٹیفانو کا کہنا تھا کہ عثمان حسین 21 جولائی کے حملوں کی ناکام کوشش کے بعد اٹلی میں قیام پذیر اپنے رشتہ داروں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ پولیس نے عثمان حسین کے دو بھائیوں کو بھی حراست میں لیا ہے لیکن کالرو ڈی سٹیفانو کا کہنا تھا کہ عثمان کے کسی بین الاقوامی دہشت گرد گروہ سے رابطوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اطالوی پولیس میٹروپولیٹن پولیس سے مسلسل رابطے میں ہے اور مشتبہ افراد سے متعلق معلومات کا تبادلہ بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عثمان 1996 میں اٹلی سے برطانیہ گیا تھا اور برطانوی شہریت حاصل کرنے کے لیے اس نے جھوٹ بولا کہ وہ صومالین ہے۔ عثمان حسین کوجمعہ کو یورپین وارنٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یورپین وارنٹ کا قانون جمعرات کو ہی اٹلی میں نافذ کیا گیا تھا۔ یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں نئے یورپی یونین قوانین کے تحت اٹلی کو کسی مجرم کو دوسرے یورپی ملک کے حوالے کرنے کو کہا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||