’جبران کو جانے نہ دیتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں برطانوی فوج کے مارے جانے والے مسلمان فوجی جبران ہاشمی کے ماموں نے کہا ہے کہ جبران کے والدین کو ان کے افغانستان میں تعینات کیے جانے کی خبر نہیں تھی۔ پشاور میں بی بی سی بات کرتے ہوئے جاوید اقبال نے بتایا کہ اس بات کی خبر صرف جبران کے بڑے بھائی ذیشان ہاشمی کو تھی۔ جبران کے والدین کے خیال میں وہ جرمنی میں زیر تربیت تھے۔ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں گزشتہ سنیچر ہلاک ہونے والے برطانوی فوج کے پہلے مسلمان سپاہی بائیسں سالہ لانس کارپورل جبران ہاشمی کی پیدائش صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہوئی۔ وہ شہر کے اس قدیم اور تاریخی قصہ خوانی بازار سے ملحق محلہ شاہ ولی قتال کے رہنے والے تھے جہاں کی ایک اور وجہِ شہرت آج کل بھارت کی بڑی سکرین پر چھائے شاہ رخ خان ہیں۔ پشاور ماڈل سکول میں ساتویں جماعت کے طالب علم جبران اپنے خاندان کے ساتھ آٹھ برس قبل ترک سکونت کرکے برطانوی شہر برمنگھم چلےگئے تھے۔ باقی تعلیم انہوں نے وہیں حاصل کی تاہم فوج میں جانے کا انہیں شروع سے ہی شوق تھا۔ جبران کے بیس سالہ ماموں زاد بھائی ثنان جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جبران کے ساتھ وہ اکثر فوجی کارروائیوں سے بھرپور فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ ’ہم سب چاہتے تھے کہ فوج میں جائیں، کمانڈو بنیں۔ اس نے اپنی خواہش بہت جلد پوری کر لی۔ میں پاکستانی فوج میں جاؤں گا۔‘
ثنان نے بتایا کہ جبران بچپن سے انتہائی شرارتی تھے۔ ’ان شرارتوں کی وجہ سے ایک مرتبہ ان کی والدہ نے تنگ آ کر انہیں ازار بند کے ساتھ چارپائی سے باندھ دیا تھا۔‘ جبران کی موت کی خبر ملنے پر ان کے تمام عزیز و اقارب پشاور میں ان کے بڑے ماموں جاوید اقبال کے مکان پر تعزیت کے لیئے جمع ہو رہے ہیں۔ جاوید اقبال تاہم جبران کو افغانستان بھیجے جانے پر خوش نہیں۔ ’میرے خیال میں کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان سے نہیں لڑنا چاہیے۔ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘ اس سوال کے جواب میں آیا وہ اسے برطانوی حکومت کا غلط اقدام سمجھتے ہیں، جاوید نے کہا کہ کم از کم جبران کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔ ان کے ماموں کا کہنا ہے کہ اگر والدین کو خبر ہوتی تو شاید وہ انہیں روک لیتے اور افغانستان نہ جانے دیتے۔ جبران آخری مرتبہ ڈیڑھ برس قبل پشاور آئے تھے۔ ماموں زاد بھائی ثنان نے اس وقت کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہا: ’جب وہ آخری مرتبہ آیا تو مجھ سے کافی دیر تک گلے ملا اور کہا کہ وہ واپس جا کر رائل آرمی میں شامل ہوجائے گا جس کے بعد اسے معلوم نہیں کہ وہ کب پشاور آسکے گا۔‘ جبران کے رشتہ داروں کا ماننا ہے کہ یہ سانحہ ان کے لیئے ایک ناقابل یقین نقصان ہے۔ جاوید اقبال نے جبران کو والد کی غیرموجودگی میں (جو کافی عرصہ پہلے برطانیہ چلے گئے تھے) ان کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کی۔ ان کا کہنا تھا ’اس غم کو صرف ہم ہی محسوس کر سکتے ہیں۔‘ ایک سوال کا جواب جبران کے ماموں کے پاس بھی نہیں تھا کہ جبران کو دوران تربیت کیسے افغانستان تعینات کیا گیا۔ ’ہمیں نہیں معلوم کہ اس کی تربیت صرف چھ ماہ کی تھی یا اس سے زیادہ۔‘ صوبہ سرحد کی مردم زرخیز زمین کے ہزاروں نوجوانوں نے ’جہاد’ کے نام پر جہاں افغانستان میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہیں اب مغرب کی ’دہشت گردی’ کے خلاف عالمی جنگ میں بھی اسی خطے میں جنم لینے والے ایک نوجوان نے پہلے برطانوی مسلمان سپاہی کے طور پر جان دے دی ہے۔ | اسی بارے میں پہلے مسلمان، برطانوی فوجی کی ہلاکت04 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||