مسلمان برطانوی فوجی کی ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئے کم و بیش پانچ برس ہو چکے ہیں اور جنگ میں مختلف ممالک کے کئی فوجی عراق یا افغانستان میں فرائض کی انجام دہی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ہلاک شدگان کی تعداد میں ہفتے کے دن ایک اور اضافہ ہوا جب ہلمند میں دو برطانوی فوجی ہینڈ گرینیڈ کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک پیٹر تھروپ تھے۔ لیکن دوسرے ہلاک ہونے والے برطانوی فوجی کا نام جبران ہاشمی تھا۔ جبران پہلے ایسے برطانوی مسلمان ہیں جنہوں نے برطانوی فوج کی طرف سے ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جان دی۔ برطانوی اخبارات میں جبران ہاشمی کی ہلاکت کی خاص طور پر کوریج کی گئی ہے اور ان کے بارے میں تفصیلی رپورٹیں نمایاں طور پر شائع ہوئی ہیں۔ انڈیپینڈنٹ اور گارڈین دونوں اخبارات نے جبران ہاشمی کی تصاویر اور ان کے بھائی ذیشان کا انٹرویو پہلے صفحے پر شائع کیا ہے۔ ان اخبارات کے مطابق چوبیس سالہ جبران پشاور میں پیدا ہوئے تھے اور بارہ برس کی عمر میں برمنگھم آگئے تھے۔ ان کے دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جبران نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں فوج میں بھرتی ہوئے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور اپنے مقامِ پیدائش سے کچھ فاصلے پر یعنی پاکستانی سرحد کے پار افغانستان کے صوبے ہلمند میں ہلاک ہوئے۔
اخبار لکھتے ہیں: ’انہیں اپنے مسلمان ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تھی اور انہیں اپنے برطانوی ہونے پر فخر تھا۔ انہوں نے فوج میں نوکری کی اور دل و جان سے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ وہ پہلے برطانوی مسلمان ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک ہوئے۔‘ جبران کی برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب برطانیہ میں بہت سے مسلمان وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی خارجہ پالیسی کے باعث خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ جبران کے بڑے بھائی ذیشان نے جو خود بھی فوج میں ہیں اور افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں، گارڈین اخبار کو بتایا: ’جبران دل سے فوجی تھے اور دل سے مسلمان تھے۔ ان کا اسلامی پس منظر ان کے لیئے وجہِ افتخار تھا اور برطانوی شہری ہونا ان کے لیئے باعثِ ناز تھا۔‘ ’جون دو ہزار چار میں فوج میں بھرتی ہونے والے جبران ہاشمی افغانستان اس امید پر گئے تھے کہ ایسا کرنے سے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔ وہ بچپن ہی سے اپنے ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔ جبران افغانستان جا کر وہاں کی ثقافت سے بھی آگاہ ہونا چاہتے تھے۔‘ جبران کے اہلِ خانہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے: ’جبران بچپن ہی سے برطانوی فوج میں جانا چاہتے تھے اور ان کے لیئے ایک پاکستانی مسلمان کی حیثیت سے برطانوی فوج کی نمائندگی کرنا شرف و وقار سے کم نہ تھا۔‘ | اسی بارے میں قندہار میں اتحادی ہیلی کاپٹر تباہ02 July, 2006 | آس پاس کابل میں اتحادی افواج پر حملہ26 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||