BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 July, 2006, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن حملے: پاکستان متعلق نہیں

محمد علی درانی
محمد علی درانی کے بقول پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے
وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے گزشتہ سال سات جولائی کو لندن میں ہونے والے خود کش بم حملوں میں ملوث افراد کے ساتھ پاکستان کے کسی تعلق کے امکان کو رد کردیا ہے۔

جمعہ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا جس میں شبہہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ ایک بمبار تنویر شہزاد کا حالیہ ویڈیو ٹیپ پاکستان میں تیار کیا ہوگا۔

اس نئے ویڈیو ٹیپ میں لندن بم دھماکوں میں ملوث قرار دیے جانے والے تنویر شہزاد نے مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔

محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ’فرنٹ لائن سٹیٹ، کا کردار ادا کر رہا ہے اور تاحال ان کے بیسیوں سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔

 پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ’فرنٹ لائن سٹیٹ، کا کردار ادا کر رہا ہے اور تاحال بیسیوں سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں
محمد علی درانی

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس لندن دھماکوں میں ملوث خود کش بمباروں کے ساتھ پاکستان کے تعلق کے بارے میں کوئی ثبوت ہے تو وہ حکومت کو فراہم کرے اور پاکستان اس بارے میں ہونے والی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا۔ جیسا کہ ان کے بقول پہلے بھی کرتا رہا ہے۔

جمعہ کو لندن دھماکوں کی پہلی برسی ہے اور ان دھماکوں میں چار میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے۔ لندن بم حملوں میں کم از کم باون افراد مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ برطانوی تفتیش کار یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ ایک حملہ آور تنویر شہزاد دھماکوں سے قبل پاکستان آئے تھے اور القاعدہ کے اراکین سے ملاقات کے علاوہ ایک مدرسے میں تعلیم بھی حاصل کی تھی۔

اس بارے میں بھی وزیر اطلاعات نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کو ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ تنویر شہزاد نے پاکستان کے کسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ لندن دھماکوں میں ملوث قرار دیے جانے والے پاکستانی نژاد خود برطانیہ کے شہری تھے اور وہ وہیں پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی تھی۔

11 / 9 کے بعد 7 / 7
لندن دھماکے: پاکستانی اخبار کیا کہتے ہیں؟
لاحاصل تعاقب
پاکستان کنکشن نہیں نکلا؟ عامر احمد خان
مدرسہپاکستانی مدارس
’لندن بم حملوں سے کوئی تعلق نہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد