BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 July, 2005, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن بمبارکے گھر پر حملہ، ایک گرفتار
جرمن لنڈسے
جرمن لنڈسے کی بیوی نے اپنے شوہر کے بم حملوں کی مذمت کی ہے۔
پولیس نے لندن ایک مبینہ بمبار جرمین لنڈسے کے گھر پر حملہ کرنے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق کرنے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ سترہ سالہ نوجوان کو سنیچر کے روز ایلسبری کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ پولیس نے دو نوجوانوں کو رہا کر دیا تھا۔

انیس سالہ جرمین لنڈسے نے مبینہ طور ہر سات جولائی کو پکاڈلی لائن پر خود کش حملہ کیا تھا جس میں چھبیس لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایلسبری کے علاقے میں جرمین لنڈسے کے خالی گھر پر جمعہ کو حملہ کیا تھا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کوئی اس کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کرگرفتاریاں کیں۔ حفاظتی تدبیر کے طور پر ساتھ والے گھروں کوخالی کر ا لیا تھا لیکن بعد میں پڑوسیوں کو واپس گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

جرمین لنڈسے کی بیوی نے، جو اب اس گھر میں نہیں رہتی ہے، اپنے شوہر کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

ادھر پولیس اکیس جولائی کو بم دھماکوں کی کوشش کے شبہے میں دو افراد کو گرفتار کرچکی ہے۔

دوسرے فرد کی جنوبی لندن میں گرفتاری پولیس کے مطابق خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ سے حاصل کی جانے والے تصاویر کے جاری کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد انسداد دہشت گردی کے برطانوی قانوں کے تحت عمل میں آئی تھی۔

یہ تصاویر لندن کے جنوبی علاقے سٹاک ویل میں پولیس کے ہاتھوں ایک مشتبہ شخص کو ٹیوب سٹیشن پر گولیاں مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد جاری کی گئی تھیں۔

دونوں گرفتار شدہ افراد سے لندن کے پیڈنگٹن گرین پولیس سٹیشن میں ان دھماکوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

لندن کا اسٹاک ویل ٹیوب سٹیشن ایسا لگتا ہے کہ تفتیش کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ یہیں پر گزشتہ روز پولیس نے ایک فرد کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ اوول کا سٹیشن جہاں ایک دھماکہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اسٹاک ویل کے ساتھ ہی واقع ہے۔ لندن پولیس کے سربراہ سر آئن بلئیر نے اب تک کی جانے والی تحقیقات اور عوامی تعاون کو سراہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد