لندن بمبار، تلاش کا دائرہ وسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی پولیس نے ان افراد کی وسیع پیمانے پر تلاش شروع کر دی ہے جنہوں نے شہر کے وسطی علاقوں میں دو کاروں میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا۔ پولیس نے کہا ہے کہ یہ واقعات ’پریشان کن‘ ہیں۔ پولیس مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی کے کئی گھنٹوں کے فوٹیج بھی دیکھ رہی ہے۔ دونوں کاریں مرسڈیز ہیں اور ان میں کیل، پیٹرول اور گیس کے سیلنڈر بھرے ہوئے تھے۔ غیر مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے سی سی ٹی وی سے ایک مشتبہ شخص کی جھلک دیکھی ہے جو گاڑی چھوڑ کر بھاگ رہا ہے۔
اس سے قبل لندن میں پولیس نے شہر کے وسطی علاقے میں کھڑی دو ایسی کاروں کا پتہ چلایا تھا جن میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر پیٹر کلارک نے جمعہ کی رات ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ دھماکہ خیز مواد رکھنے والی دوسری کار لندن کے علاقے پارک لین سے قبضے میں لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ بم والی ایک اور کار کا ملنا واقعی پریشانی کی بات ہے‘۔ پیٹر کلارک نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلی کار کی طرح دوسری کار میں سے تیل اور گیس کے کنستروں کے علاوہ بھاری تعداد میں کیل بھی ملے ہیں۔ لندن پولیس نے پہلی کار شہر کے وسطی علاقے پکاڈلی سرکس کے قریب ’ہے مارکیٹ‘ سے جمعہ کی صبح قبضے میں لی تھی۔ دھماکہ خیز مواد رکھنے والی دونوں کاریں مرسڈیز ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ناکارہ کیے گئے کار بم اگر پھٹ جاتے تو بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتیں ہوتیں۔ |
اسی بارے میں ’طیاروں کی تباہی کا منصوبہ ناکام‘ 10 August, 2006 | آس پاس ’ہلاک شدگان 50، کوئی گرفتار نہیں‘08 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: 38 ہلاک، 700 زخمی07 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||