لندن بمبار کی بیوہ بھی زیرحراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے سات جولائی کے خود کش دھماکوں کے سلسلے میں حراست میں لیے جانے والے چار افراد میں سے ایک خود کش بمبار صدیق خان کی بیوہ بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے انتیس سالہ حسینہ پٹیل اور دو دیگر افراد کو مغربی یارکشائر جبکہ چوتھے شخص کو برمنگھم کے علاقے سیلی اوک سے حراست میں لیا ہے۔ بدھ کی صبح ہونے والی یہ کارروائیاں ان خفیہ معلومات کی روشنی میں کی گئیں ہیں جو سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشتگردی کے ادارے نے اپنی مغربی یارکشائر اور مغربی مِڈ لینڈز کی ٹیموں کے ساتھ مل کر جمع کی ہیں۔ سات جولائی دو ہزار پانچ کے خود کش حملوں میں باون لوگ مارے گئے تھے۔ حراست میں لیے جانے والے بائیس سے چونتیس برس کی عمروں کے ان چار افراد پر شبہہ ہے کہ انہوں نے دہشگردی کے اقدامات کی تیاری کی یا دوسروں کوایسے اقدامات پر اکسایا۔ ان افراد کو مزید تفتیش کے لیے لندن کے پیڈنگٹن گرین تھانے لیجایا جا رہا ہے۔ ان افراد کو حراست میں لیے جانے کے علاوہ برمنگھم کے دو علاقوں سیلی اوک اور ہینڈزورتھ میں دو مکانوں کی تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق سیلی اوک سے گرفتار کیے جانے والے شخص کی عمر بائیس سال ہے۔ مغربی یارکشائر میں کُل پانچ گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں چونتیس سالہ خالد خالق بھی شامل ہیں جو مغربی یارکشائر کے قصبے بیسٹن کی اسی گلی میں رہتے ہیں جہاں سات جولائی کے ایک بمبار تنویر شہزاد کا گھر تھا۔ حسینہ پٹیل کے شوہر تیس سالہ صدیق خان نے زیر زمین ٹرین کے ایجوئر روڈ کے سٹیشن کے قریب خود کش دھماکے میں سات افراد کو ہلاک کیا تھا۔ تنویر شہزاد اور صدیق خان کے حملوں کے علاوہ سات جولائی کو ایک تیسری زیر زمین ریل گاڑی اور ایک بس میں بھی دھماکے کیے گئے تھے جن میں مجموعی طور پر سات سو پچاس سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سات جولائی کے دھماکوں کی تفتیش ایک کٹھن کام ہے کیونکہ اس بات کا کھوج لگانا بہت مشکل ہے کہ کیا کسی کو ان حملوں کا پیشگی علم تھا یا کسی شحض نے منصوبہ بندی کے دوران ان بمباروں کی مدد کی تھی۔ مغربی مِڈ لینڈز اور مغربی یارکشائر کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ مقامی لوگوں کو ان کے علاقوں میں جاری تفتیش سے آگاہ رکھ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سات جولائی: بیسٹن سے ایک رپورٹ08 July, 2006 | آس پاس سات جولائی کے بعد نسلی منافرت میں اضافہ16 December, 2005 | آس پاس 7جولائی: حملوں سے پہلے ریہرسل20 September, 2005 | آس پاس لندن، دہشت گردوں کا چوراہا: امریکی اخبار13 July, 2005 | صفحۂ اول لندن دھماکوں کی عالمی مذمت07 July, 2005 | صفحۂ اول وسطی لندن میں دھماکے07 July, 2005 | صفحۂ اول لندن، تین افراد پر فرد جرم عائد06 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||